اسکولوں میں بلوچی زبان پڑھانے کیلئے اساتذہ تعینات کیے جائیں، سنگت رفیق
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچی اکیڈمی کا چونسٹھواں سالانہ جنرل باڈی اجلاس چیئرمین سنگت رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بیزن سبا نے رپورٹ میں گزشتہ سال کے دوران منعقد کئے گئے ادبی سرگرمیوں اور تقریبات، نشر واشاعت ودیگر منصوبوں کے متعلق ممبران کو آگہی دی۔ اس کے علاوہ سالانہ رپورٹ میں مالی اخراجات کے بارے میں ممبران کو بریفنگ دی گئی اور منظوری لی گئی۔ بلوچی اکیڈمی کے ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھائے جانے والے بلوچی مضمون کا نصاب بنانے اور بلوچی کو پڑھانے کے عمل کو بھی روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبران نے مطالبہ کیا کہ اسکولوں میں بلوچی زبان کو پڑھانے کے لیے بلوچی ٹیچر تعینات کیے جائیں۔ اکیڈمی کے ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کالج لیول میں بلوچستان کے مختلف کالجز کے لیے بلوچی کی خالی اسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کے تحت مشتہر کرکے استاد مقرر کیے جائیں تاکہ سرکاری کالجوں میں بلوچی پڑھانے کے عمل میں تیزی لائی جاسکے۔ڈاکٹر بیزن سبا نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اکیڈمی نے اس سال بلوچی زبان کی ڈیجیٹیلائزیشن کے لیے ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہے کہ جس میں اکیڈمی کی چھاپ کردہ کتابیں پڑھنے کے لیے میسر رکھی گئی ہیں۔اس کے علاوہ تحقیق کے شعبے میں 9تحقیقی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ جبکہ اس سال انگریزی بلوچی ڈکشنری، بلوچی چار زبانی ڈکشنری کے علاوہ شاعری اور فکشن کے بارے میں کل 21 کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ اکیڈمی نے مجلس عاملہ کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے لیے تعلیمی مواد کی تیاری، غیر ملکی زبانوں کی کلاسیک تخلیقات کو بلوچی زبان میں ترجمہ اور بلوچی کے شاہکار ادبی و تاریخی مواد کو انگریزی یا دیگر زبانوں میں ترجمہ،بلوچی زبان کے لہجوں اور تاریخ کے بارے میں تحقیق و اشاعت اور بلوچستان کی تاریخ کے بارے میں اقدامات اٹھائے۔ جنرل باڈی کے ممبران نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اسمبلی ممبران کی توجہ اس جانب دلائی کہ بلوچی زبان سمیت بلوچستان کی بڑی زبانوں پشتو اور براہوئی کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ممبران نے بلوچی اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے میں بحث کرتے ہوئے کہا اکیڈمی نے پچھلے کچھ عرصے سے تحقیقی مقالوں پر مشتمل سیمینار منعقد کیے ہیں اور تحقیق کی جانب زیادہ توجہ مرکوز کی ہے جس سے بلوچی زبان کی زبان و ادب کے فروغ میں مددمل رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچی اکیڈمی کی تیار کردہ موبائل اپیلی کیشن بھی اس جانب ایک اہم قدم ہے۔ چونسٹھویں اجلاس میں یہ قرار پیش کیے گئے اور حکومت بلوچستان سمیت متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری پرائمری اسکولوں میں بلوچی، پشتو اور براہوئی کے باقاعدہ استاد (ٹیچر) مقرر کیے جائیں اور پرائمری سکولوں میں ان زبانوں کو پڑھانے کے عمل کو دوبارہ جاری کیا جائے۔ بلوچستان میں سریاب روڑ میں واقع میں میوزیم سمیت مختلف علاقوں میں کلچرل سینٹرز کو فعال کیا جائے۔ جعفرا?باد اور نصیرا?باد کے علاقوں میں بلوچی زبان کو پڑھانے کا عمل شروع کیاجائے۔ ریڈیو اور ٹی وی پراگراموں کو معیاری بنانے کے علاوہ ان نشریات کے دورانیہ کو بھی بڑھایا جائے۔ بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین سنگت رفیق کے اجلاس میں شریک تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچی اکیڈمی بلوچی زبان، تاریخ، ثقافت اور ادب کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی اور جدت لائے گی۔


