نئے حالات، نئے تقاضے اور بے رحم

دنیا بھر میں نئے قوانین کے تحت ایک نیا کلچر جنم لے رہا ہے صرف وہی لوگ پریشان نہیں جو کرونا سے متأثر ہیں بلکہ پورا معاشرہ تبدیلی کے ایک نادیدہ عمل سے گزر رہا ہے۔چندماہ قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسے ایسے حالات سے گزرنا ہوگا۔تاجر برادری جوخود کو اتنا طاقتور سمجھتی تھی کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے حکمرانوں کی ناک میں نکیل ڈال کر جو چاہتی منوا لیتی تھی مگر کورونا کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ایس او پیز پر عملدرآمد کی یقینی کے بعد اپنی دکانیں کھولنے پر راضی ہے۔ اب مارکیٹیں کھلنے کے بعد گاہکوں کی بڑی تعداددکانوں اور مارکیٹوں کا رخ کرے گی۔اصل ذمہ داری کا بوجھ انہی گاہکوں کے کندھوں پر ہے جو کئی دہائیوں سے قانون شکن ماحول میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔90فیصد سے زیادہ موٹر سائیکلوں پر viewمرر موجود نہیں،سب اللہ توکل چلے جا رہے ہیں پوچھو تو جواب ملتا ہے ہیروئنچی چرا کر لے جاتے ہیں۔اس غیر ذمہ دارانہ سوچ کے مالک عوام کورونا کلچر میں کتنا تعاون کریں گے؟ اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔عید سر پر ہے عید الفطر کا تہوار سب سے زیادہ اہم اور پورے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔امیر ہو یا غریب سب کی کوشش ہوتی ہے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تیاری کرے۔ امسال بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ وہی کچھ دیکھنے میں آئے گا جو ایسے تہوار کے مواقع پر ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں کورونا وائرس اپنی تباہ کن قوت کے ساتھ پاکستان کے گلی کوچوں میں موجود نہیں تھا، بلکہ دنیا کے کسی ملک میں کسی نے اس کا نام بھی نہیں سنا تھامگر آج یہ زندہ حقیقت ہے اور امریکا، برطانیہ، فرانس اور روس سمیت سب اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان اپنی کمزور معیشت کے ساتھ عالمی برادری کی طرف دیکھ رہا ہے کہ خصوصی پیکج کی صورت میں اسے بھی اتنی امداد مل جائے گی کہ اپنی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرلے۔امید ہے قرضوں کی ادائیگی میں ملنے والی مہلت اس کی مشکلات کو ایک حد تک آسان کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔اس کا اظہار وزیر اعظم اور مشیر خزانہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔حالات شاید حکومتی توقعات سے زیادہ سنگین ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں سے ایک لاکھ 10ہزار سے زائد نے وطن واپسی کے لئے سفارت خانوں سے رابطہ کر لیا ہے۔اس کے معنے یہ ہوں گے کہ بیروز گاری میں اضافہ اورملکی آمدنی میں کمی غیر متوقع حدوں کو چھو سکتی ہے۔
حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں نفسا نفسی کا عالم ہوگا، ہر ایک کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہوگی۔پاکستان کی حکومت کے اندازِ نشست و برخاست سے یہی نظر آتا ہے کہ اس نے کئی حوالوں سے اپنے ہمسایہ ملک چین پر تکیہ کیا ہوا ہے زیادہ تر امیدیں سی پیک سے وابستہ کر رکھی ہیں۔مگر آئی پی پیز انکوائری رپورٹ سامنے آنے بعد شنید ہے کہ ہلکا ہاتھ رکھنے کی اپیل چین کی جانب سے کی جا چکی ہے کہ بعض کمپنیوں کا تعلق چین سے بھی ہے۔اگر اپیل کے جواب میں نرم رویہ اپنایا گیا تو پاکستان معاشی مشکلات کے گرداب سے کبھی نہیں نکل سکے گا۔گردشی قرضہ بڑھ کر 2100 ارب روپے سے زائد ہو گیا ہے۔پاکستان نے ماضی میں کی جانے والی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور اپنی اصلاح نہ کی تو آنے والی نسلیں نانِ شبینہ کو ترسیں گی۔سی پیک کے ہر منصوبے کو شفاف اور عوام دوست بنانے کی اشد ضرورت ہے۔اسے شیرِ مادر سمجھ کر پی جانے والی حکمت عملی سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی۔بلوچستان کی حکومت اور سیاست دانوں کو دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ چوکنارہنا ہوگا،ماضی میں کی جانے والی غفلت اور لاپروائی کا جس قدر ازالہ ممکن ہو کیا جائے مگر آئندہ ان غلطیوں کے دہرانے سے بچا جائے۔ہر معاہدے میں صوبائی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔کورونا نے ایک بڑا سبق یہی دیا ہے کہ کورونا کی علامتیں ظاہر ہوتے ہی تمام رشتے ناتے ختم ہو جاتے ہیں آئیسولیشن وارڈ میں جانا پڑتا ہے بعض اوقات وینٹی لیٹر بھی کام نہیں آتا۔اتنی ناپائیدار زندگی کے دولت کے انبار لگانے کی بجائے اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
کورونا سے اگر پاکستانی قوم نے قانون کا احترام کرنا سیکھ لیا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔آنے والے دنوں میں دنیا کی نفسیات کافی حد تک نئی محسوس ہوگی۔ چین پر کورونا کے حوالے سے الزام تراشی نئی چپقلش کے اشارے دے رہی ہے۔پاکستانی حکمرانوں نے اگر اصولوں کو ماضی کی نظر انداز کیا اور ہٹ دھرمی اور خودغرضانہ حکمت عملی سے علیحدگی اختیار نہ کی تو یہ اپنے ساتھ ملک کو بھی بھاری نقصان پہنچائیں گے۔اقوام متحدہ سمجھتی ہے کہ کورونا ابھی دوسال تک مکمل طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا دوسال میں دنیا میں کافی حد تک نیا کلچر متعارف ہو چکا ہوگا۔ایس او پیز پر عملدرآمد میں کوتاہی کی سزا دینے کے لئے کورونا موجود ہے۔حکمرانوں کو چاہیے کہ عوام سے سچ بولیں پیر جو گوٹھ جیسی جھوٹی اطلاعات سے خوف و ہراس نہ پھیلائیں۔صوبے جھوٹی رپورٹس دے کر وفاق سے سو فیصد سچ کی توقع نہ کریں۔بلوچستان پہلے ہی بڑے نقصانات اٹھا چکا ہے اب تو بلوچ عوام پر رحم کیا جائے اسے اس کا جائز حق ملنا چاہیئے۔کورونا اصول شکنی کی اجازت نہیں دیتا۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اصول پرستی درکار ہے، اصول پرستی کو زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔سب کو یاد رہنا چاہیے کہ اب دنیا نئے حالات میں سانس لے رہی ہے نئے تقاضوں کا خیال رکھنا ہے، دوسرا کوئی راستہ نظر نہیں آتااصول شکنی جرم ہے اس کی سزا حکومت دے یا بے رحم کورونا دے مگر سزا مل کر رہے گی۔
Load/Hide Comments


