پاسداران انقلاب کو کالعدم فہرست سے نکالنا ویانا مذاکرات کا حصہ نہیں، امریکا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کی تجویز پر ایران کی تجاویز موصول ہونے کے بعد امریکہ یورپی یونین کے ساتھ ایران کے ردعمل کے بارے میں اپنے خیالات کا تبادلہ کر رہا ہے، تاکہ تہران کی جانب سے واشنگٹن سے لچک دکھانے کا مطالبہ کرنے کے بعد 2015ء کے معاہدے کو بچایا جا سکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو کالعدم کی فہرست سے نکالنا ویانا مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔یورپی یونین کے ایک ترجمان نے برسلز میں صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ہم معاہدے کے لیے حتمی تجویزکا مطالعہ کر رہے ہیں اور ہم JCPOA کے دیگر شرکا اور امریکا کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔اس نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کو منظم کرنے والی یورپی یونین کی طرف کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا۔امریکا اور ایران کے درمیان 16 ماہ کے وقفے وقفے سے اور بالواسطہ بات چیت کے بعد یورپی یونین کے ایک سینئر اہلکار نے 8 اگست کو کہا کہ بلاک نے ایک "حتمی” پیشکش کی ہے اورچند ہفتے میں اس کے جواب کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں