بحر بلوچ کے مالک مقامی ماہی گیر، غیر مقامیوں کو مسلط ہونے نہیں دینگے، ہدایت الرحمن

گوادر (بیورورپورٹ) ہم کسی طور بحر بلوچ میں غیرقانونی ٹرالرز اور ماہیگیروں کی حق تلفی و تذلیل برداشت نہیں کریں گے، اس موروثی سمندر کے مالک ماہیگیر تھے ماہیگیر ہیں اور ماہیگیر ہی رہیں گے، حق دو تحریک بلوچستان کی جانب سے شاندار ماہیگیر موٹرسائیکل ریلی سے قائدین کا خطاب حق دو تحریک بلوچستان کی جانب سے ’تحفظِ حقوقِ ماہیگیران‘ کے سلسلے میں ماہیگیروں کے استحصال اور ٹرالرز مافیا کے خلاف ایک شاندار ماہیگیر موٹرسائیکل ریلی کا انعقاد کیا گیا جو ڈھوریہ گوادر سے شروع ہوکر ڈی سی آفس تک اختتام پذیر ہوا۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قائد حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بحر بلوچ میں حق حاکمیت صرف مقامی ماہیگیروں کا ہے اور کسی غیر مقامی کو ہم خود پر مسلط ہونے نہیں دیں گے۔ ماہیگیروں کو اقلیت و محکوم بنانے کے ہر سازش و منصوبے کی بھرپور مخالفت و مزاحمت کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ٹرالرز دوبارہ بحر بلوچ کو تاراج کرنے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں اور چونکہ محکمہ فشریز کا وزارت قدوس بزنجو کے پاس ہے اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرالرز کی آمد میں اس کی رضامندی شامل ہے اور اس کا بھتہ اس کی جیب میں جاتا ہے اور چونکہ گوادر کے ایم پی اے قدوس بزنجو کے دوست ہیں تو ایم پی اے بھی اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ ٹرالرز، لاپتہ افراد، بارڈر اور دوسرے بنیادی مسائل کے لئے ایک اور تاریخی دھرنا دیا جائے گا۔ جس چیف سکریٹری کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حق دو تحریک کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لے اس چیف سکریٹری کو ناک رگڑ کر یہاں آنے پر مجبور کریں گے۔ ماہیگیروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سنیئر رہنما حسین واڈیلہ نے کہا کہ اس حکومت میں ہر بنیادی حقوق کے لئے احتجاج لازم و ملزوم ہوگیا ہے۔ پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ حکومت انتہائی ناکام حکومت ہے حسین واڈیلہ نے مزید کہا کہ حق دو تحریک ہمیشہ بلوچوں کی یکجہتی کی جدوجہد کرتا ہے مگر کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی ریلی میں غنڈہ گردی سے نام نہاد قوم پرست کا چہرہ بلوچستان کے عوام نے دیکھ لیا کہ کس طرح یہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن ہے- حسین واڈیلہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بحر بلوچ پر کسی غیر مقامی کی حاکمیت ہمیں قبول نہیں۔ ساحل مکران صدیوں سے مقامی ماہیگیروں کی حاکمیت میں رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا اگر مقامی ماہیگیروں کو محکوم و اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو حق دو تحریک اس کے خلاف آخری حد تک جائے گا۔ آخر میں ریلی کے شرکاء نے ماہیگیروں کے مطالبات پر مبنی یادداشت ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں