اوستہ محمد، سیلاب متاثرین حکومتی امداد سے محروم، اکثریت کی سندھ نقل مکانی

اوستہ محمد (انتخاب نیوز) حالیہ سیلابی بارشوں سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف گوٹھوں، شہروں سے لوگ اندرون سندھ نقل مکانی کرگئے۔ حکومت سندھ کی مہربانی کہ سیلاب متاثرین کو رہائش کراچی، حیدرآباد، جام شورو سمیت مختلف شہروں میں آنے دیا، اب مرکزی حکومت بھی سندھ حکومت کو فنڈز زیادہ دے تاکہ وہ ان متاثرین کی مدد کریں، ان کو خیمہ،راشن،ادویات دے سکے۔ بلوچستان میں پچیس فیصد عوام رہ گئے ہیں اور حکومت بلوچستان وہ فنڈز بھی کھانا چاہتی ہے، لہٰذا سندھ میں پریشر بڑھ گیا ہے، خوراک، ادویات، سبزیوں کی ضرورت اور مانگ ہے، اس لیے اس طرف فوری توجہ دی۔ جائے بلوچستان کے حکمران اپنے صوبے اور عوام سے مخلص نہیں۔ عوام بھوکے، پیاسے مررہے ہیں تپتی دھوپ میں آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔ جبکہ ڈی سی متاثرین سے کہتے ہیں کہ منتخب نمائندوں سے چٹھی لیکر آو تو ٹوکن ملے گا۔ سیلاب متاثرین نے شکایت کی کہ ڈی سی جعفر آباد کے پاس جاتے ہیں تو وہ ٹوکن نہیں دیتے وہ سیاسی لوگوں اور منتخب نمائندوں سے چٹھی لانے کو کہتے ہیں کہ ان سے خط لاؤ تو ٹینٹ اور سامان دیں گے، وہ ہمیں زبردستی ان کی طرف بھیجتے ہیں تاکہ ان کا احسان ہو۔ عوامی حلقوں نے کہا کہ اصل میں حکومت میں بیٹھے لوگ نہ صوبے سے مخلص ہیں نہ بلوچستان کے عوام سے مخلص ہیں، ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں وہی مدد کرے گا، کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔ مرکزی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فنڈز فوج کے ذریعے متاثرین کو دلوائیں، باقی اس حکومت سے کوئی امید نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں