سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہیں، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بی این پی ضلع کوئٹہ کابینہ کا اجلاس زیر صدارت ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی وضلعی صدر غلام نبی مری منعقد ہوا،اجلاس کی مہمان خاص پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ تھے،اجلاس کی کارروائی ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو نے چلائی، اجلاس میں ضلعی سینئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی،نائب صدر طاہر شاہوانی ایڈوکیٹ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی،جوائنٹ سیکرٹری اسماعیل کرد،انفارمیشن سیکرٹری نسیم جاوید ہزارہ،لیبر سیکرٹری میر محمد اکرم بنگلزئی،خواتین سیکرٹری باجی منورہ سلطانہ،انسانی حقوق سیکرٹری پرنس رضا بلوچ اور آفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفی سمالانی نے شرکت کی،اجلاس میں کوئٹہ کے مجموعی سیاسی صورتحال،تنظیمی امور اور آئندہ کا لائحہ عمل سے متعلق سیرحا صل بحث کی گئی اور کوئٹہ میں پارٹی کو مزید فعال ومتحرک مظبوط ہر دل عزیز قومی جماعت بنانے کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی گئی،اجلاس میں کہا گیا کہ کوئٹہ کے عوام گوہ نہ گوہ سماجی،معاشی مسائل سے دوچار ہیں،رہی سہی کسر حالیہ شدید طوفانی بارش اور سیلاب نے کوئٹہ شہر کے انفراسٹرکچر کو مکمل طورپر تہس ونہس کرکے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی،سیلابی صورتحال کے نتیجے میں یہاں کے عوام کو راشن،خوراک،ٹینٹ اور دیگر اشیاء خورونوش کی ضرورت ہے،بجلی،گیس،پانی،موبائل نیٹ ورک کی مکمل بحالی انتظامیہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے،اجلاس میں کہا گیا کہ مختلف مافیاں لوگوں کے مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اشیاء خوردونوش جن میں روٹی،سبزیاں،پھل،پینے کے صاف پانی،یوٹیلٹی سٹور میں سستے داموں پر خوراکی سامان کے قیمتوں بے تحاشہ اضافہ،من مانیاں اپنے عروج پر ہے کہیں پر بھی حکومتی اور انتظامیہ کے رٹ دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ ان شیاء خورونوش کے شارٹیج اور ریٹوں کو کنٹرول کرنے کیلئے انتظامیہ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے عوام بے یار ومددگار،ذہنی کیفیت اور دربدر کے ٹھوکریں کھارہے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی،سڑکیں،راستوں کو ابھی تک مکمل طورپر بحال نہیں کیا گیا،ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،سرکاری ہسپتالوں میں نام نہاد ایمرجنسی نافذ کرنے کے باوجود کئی بھی ڈاکٹر،اسٹاف اور ادویات ناپید ہوتے جارہے ہیں،جس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انتظامیہ اور ارباب اختیار واقتدار ان مافیا ں کے سامنے بے بس ہے جنہوں نے غریب شہریوں کی زندگی جینا حرام کردیا ہے،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے اور ان کی انتظامیہ متاثرین کی صحیح طورپر حق دار لوگوں کو سامان فراہم کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے،بلوچستان نیشنل پارٹی یہاں کے عوام کے حقیقی نمائندہ جماعت کے حیثیت سے جو کوئٹہ کے تمام اقوام کے سب سے بڑی نمائندہ پارلیمانی،سیاسی،جمہوری جماعت ہے،یہاں کی عوام کیساتھ ناانصافیوں پر کسی بھی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کرینگے اور نہ عوام کو مشکل اور تکالیف میں تن وتنہا نہیں چھوڑینگے،کیونکہ یہاں کے عوام کیساتھ ہمارا صرف اور صرف ووٹ کا رشتہ نہیں ہے بلکہ نظریاتی رشتہ ہے جو انکے بنیادی حقوق انکے گھروں کی دہلیز تک پہنچانا اپنا قومی ذمہ داری سمجھتی ہے،انہوں نے کہاکہ حالیہ سیلاب سے بلوچستان میں دو لاکھ ایکڑ سے زائد کی زرعی اراضی تباہ ہوئی ہے،زراعت کے شعبہ کو300ارب روپے کا نقصان ہوا ہے،جس میں سیب،انگور،پیاز،ٹماٹر کے فصلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے حکومت وقت زراعت کے شعبے کی بحالی کیلئے فوری طورپر خصوصی پیکج اور انکے بجلی کے بلوں کی معافی کیلئے اقدامات اٹھائیں،اور مالداروں کے لاکھوں مویشی جو سیلاب کے نظر ہوئے ہیں کہ نقصانات کے ازالے کیلئے جامع سروے کرکے حقداروں کو انکا حق دیں،یہ قدرتی آفت تھی لیکن اب سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،اجلاس میں کہا گیا کہ لاپتہ بلوچ خواتین گزشتہ کئی دنوں سے ریڈ زون میں اپنے پیاروں کے بازیابی کیلئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں،حکومت وقت کا یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طورپر منظر عام پر لایا جائے اگر جس کسی کیخلاف کوئی کیس ہو تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں، بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے طاقت اور زور کے ذریعے سے حل کرنا کسی بھی فریق کیلئے سودمن نہیں رہے گا،بی این پی نے ہمیشہ لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے ہر سطح پر آواز بلندکیا ہے،اجلاس میں کہا گیا کہ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی گزشتہ 34دنوں سے اپنے بنیادی حقوق،اپگریڈیشن کے اصول کیلئے اساتذہ کرام تادم مرگ بھوک ہڑتال میں موت سے دوچار ہیں لیکن حکومت ٹھس سے مس نہیں ہورہی ہے اساتذہ کرام معاشرے کا کریم کا حیثیت رکھتے ہیں لیکن یہاں پر سڑکوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کیلئے ایک غلط مسیج جارہاہے لہذا فوری طورپر اساتذہ کرام کے مطالبات کو تسلیم کرکے اپگریڈیشن اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،بی این پی نے ہمیشہ محنت کشوں اساتذہ کے جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں