بلوچ عوام ہمیشہ اپنے قومی مفادات پر اکھٹے ہوتے ہیں پشتونوں کو بھی پیروی کرنا ہوگی، محمود خان

پشین: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمودخان اچکزئی نے کہا ہے کہ یہ خوشی کا مقام ہے کہ خان شہید نے اپنے سیاسی جمہوری جدوجہد اور تحریک کا آغاز 1929میں ضلع پشین سے شروع کیا تھا آج ہم پارٹی کے تنظیم نو کے سلسلے میں موجود ہے جو نیک شگون ہے،پارٹی افراد کے اْس تنظیم کا نام ہے جو پارٹی پروگرام کے ساتھ متفق ہو اور اْن میں اعتماد کا پختہ رشتہ ہو، اختلاف رائے کی ہر کسی کو اجازت ہوتی ہے لیکن فیصلے پارٹی اصولوں کے مطابق اتفاق رائے یا اکثریت رائے سے کیئے جاتے ہیں اور سب کو اْس کی پابندی کرنی ہوگی۔ اور پارٹی کے بنیادی پالیسی اور اصولوں کی خلاف ورزی کسی فرد کا حق نہیں۔مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحادوں کی سیاست اپنے غیور ملت کی قومی اتحاد واتفاق بنانے، قومی محکومی سے نجات اور انہیں ترقی وخوشحالی کی منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے جاری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اگر ملک میں دوسرے اقوام کی ہر مکتبہ فکر کی پارٹیاں اپنے قومی مفادات کے حصول اور تحفظ کی خاطر متحد ہوسکتی ہے تو پشتونخوا وطن کی سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے غیور ملت کی قومی حقوق واختیارات کے حصول اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی۔ اسلام پشتون غیور ملت کی زندگی میں پیوست اورزندگی کا حصہ ہے،بنوں کے تاریخی کامیاب جرگے کا انعقاد درحقیقت پشتونخوا وطن کے غیور عوام اور ان کے نمائندہ قوتوں اور افراد تاریخی آواز اور تحریک بنے گی۔ پشتون افغان غیور ملت تاریخ میں کبھی بھی دہشتگرد اور فرقہ پرست نہیں رہے۔ روس اور امریکہ اپنے اپنے اتحادیوں کے ساتھ پشتون افغان ملت کے قرض دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کی نظریات وافکار ہر ایک پر واضح اور معلوم ہے اور ہم اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے ہر قسم کے گھمبیر حالات میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہے سیاست عشق کا نام نہیں بلکہ یہ امکانات کا عمل ہے اور حالات واقعات کو مدنظر رکھ کر اپنی بساط کے مطابق آگے بڑھنا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہمارے اتحادوں کی سیاست اپنے غیور ملت کی قومی وحدت اور ترقی وخوشحالی اور قومی اتحاد واتفاق کے منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے ہیں۔ حالانکہ پنجاب بہت بڑے مذہبی جماعتوں کا مرکز ہے لیکن پنجاب کے مفادات پر سب ایک ہے۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں ہر مکتبہ فکر کے تمام پارٹیاں سندھ کے قومی مفادات کی حصول وتحفظ کیلئے جب بھی ضرورت پڑی متحدہ ہوکر ایک ہوجاتے ہیں اسی طرح بلوچ عوام کے تمام مکتبہ فکر کی پارٹیاں بلوچ قوم کے قومی مفادات کیلئے ہمیشہ مختلف جماعتوں کے ہوتے ہوئے ایک موقف اختیار کرکے چلے آئے ہیں۔ تو پشتونخوا وطن کے سیاسی جمہوری قوتوں سمیت تمام پارٹیوں اور تنظیموں کیلئے بھی ضروری ہے کہ پشتونخوا وطن کے قومی حقوق واختیارات کے حصول اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے بیک آواز ہوکر متحد ہونا ہوگا۔ اور ہم نے ایسے اتحادوں اور سیاسی محاذ بنانے کیلئے مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہوگی۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی اتحادی سیاست کے دوران اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیئے گئے معاہدوں اور وعدوں پر ہر صورت میں عملدرآمد کریگی۔ اور اگر کئی ہماری اتحادی سیاست ہمارے دین اسلام،ہمارے وطن، ہمارے عوام اور ہمارے پشتو دود ودستور کیخلاف اور نقصان کا باعث بنا تو دوست اور ساتھی بتا کرایک دوسرے کی اصلاح کریں اور بلاجواز انارکی اور پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی سے گریز کرے۔انہو ں نے کہا کہ پشتون افغانستان کا ہر اول دستہ رہا ہے اور پشتون افغان غیور ملت تاریخ میں اس خطے کی اہم طاقت رہی تھی جنہوں نے اپنے ہمسایوں سمیت بہت سے ملکوں کی رہبری کی تھی اور افغانستان پر قبضے کا ارادہ اب بھی خطرناک ثابت ہوگا۔ افغانستان میں مداخلت کرنے اور وہاں درپیش حالات کی سنگینی سے اندازہ ہونا چاہیے۔ لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو اس بات کا اب تک ادراک کرنا چاہیے کہ افغانستان میں مداخلت کے نتائج اْن کیلئے بھی انتہائی سنگین ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں