نوشکی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امراض پھیلنے لگے، خوراک اور ادویات کی قلت

نوشکی (انتخاب نیوز) نوشکی میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث جہاں مکانات گرنے اور منہدم ہونے سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے اب علاقے میں مختلف قسم کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں بڑی تعداد میں بچے خواتین اور لوگ ہیضہ، ملیریا، الرجی، زکام، بخار، دانہ نکلنے، آنکھوں اور گلے کی بیماری کا شکار ہیں سیلاب کے بعد مختلف قسم کی بیماریاں آب و ہوا کے ذریعے لوگوں کو اپنی لپٹ میں لے لیا ہے۔ بیماریوں سے بچنے کے لیئے مقامی سطع پر مختلف ایریاز میں فری میڈیکل کیمپ لگا کر لوگوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس وقت محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی جانب سے ضلع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیں مگر اسپیشلسٹ اور ماہر ڈاکٹرز اور مناسب مقدار میں ادویات کی کمی کی وجہ سے بیماریوں پر کنٹرول کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے ماں اور بچے بڑی تعداد میں غذائیت کی شکار ہیں سیلاب غربت بیروزگاری مہنگائی کے باعث لوگ علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کو مناسب خوراک دینے کی استطاعت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ بیماریوں کے ساتھ ساتھ مال نیوٹریشن کے باعث اموات کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ سیلاب کے بعد صورتحال کنٹرول میں ہے بیماریوں سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تاہم عوامی حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بیماریوں اور خوراک کی کمی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ممکن ہو سکتا ہے دوسری جانب دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے لوگوں کی اکثریت کی شدید بیماری اور اموات کی اطلاع میڈیا تک نہیں پہنچتی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے بھی بیماریوں سے متلعق میڈیا کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت کو سیلاب سے متاثرہ ضلع نوشکی میں پیدا ہونے والی بیماریوں اور غذائیت کے شکار افراد پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں