میر ضیا کون ہے، ڈپٹی کمشنر کون ہے، سب کچھ قدوس بزنجو ہیں، فرح عظیم شاہ
کوئٹہ : حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہاہے کہ میر ضیا کون ہے، ڈپٹی کمشنر کون ہے، سب کچھ قدوس بزنجو ہیں، وزیراعلیٰ کی نیت تو نظرآتی ہوگی،حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے مجھے فارن ایڈسے متعلق ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو واحد شخص تھے جن کی حکومتی ارکان کے علاوہ اپوزیشن بھی گن گا رہے تھے یہ ایک مثال ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ منظور کاکڑ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، سیلابی صورتحال ہو یا کوئی حکومتی اقدام ہوں صوبے کی سطح پر وزیراعلیٰ بلوچستان واحد سیاستدان ہیں جو سب کو ساتھ لیکر چلے، ریکوڈک منصوبہ ہو یا پھر قدرتی آفات وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا، وہ منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ منظور کاکڑ قابل احترام ہیں، اختلافات ہوتے رہتے ہیں، ارکان اسمبلی ایک خاندان کی مانند ہیں، جنہوں نے مل کر صوبے کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے صورتحال کے شروع میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر سب کو ذمہ داری سونپ دی تھی جب سب کو ذمہ داریاں سونپی گئیں تو پھر وزیراعلیٰ بلوچستان کون ہیں، سب کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز سے نبھائیں۔ بلوچستان پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے، میں مختلف عالمی ڈونرز سے مل رہی ہوں، وزیراعلیٰ کا وژن ہے اور بلوچستان کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ان کے اختلافات ہیں تو ہمارے ساتھ بیٹھیں گے، ہم ان غلطیوں کو درست کرینگے اگر عوام کی بھلائی کیلئے ہم آپس میں لڑ رہے ہیں تو پھر یہ خوش آئند بات ہے، جب جام کمال کو ہٹایا گیا اور میر عبدالقدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تو پھر حکومت کے علاوہ اپوزیشن بھی میر عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ تھیں، جس نے ایک مثال قائم کی، ہنہ اوڑک تباہی کا شکار ہے، بلوچستان حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ میر عبدالقدوس کی نیت نظرآتی ہوگی وہ گرائونڈ پر احکامات جاری کررہے ہیں، ہم تمام ڈونرز سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو نہ پہلے خطرہ تھا نہ اب کوئی خطرہ ہے، ابھی چند ماہ ہوئے ہمیں اپنی حکومت سنبھالے ہوئے، تمام ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ کے شانہ بشانہ ہوکر جام کمال کو گھر بھیجا تھا، مل بیٹھ کر تحفظات دور کرینگے، چند ماہ میں ریکوڈک سمیت 8 ایسے بڑے اقدامات تھے جو سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اعلان نہ کرسکے، یوتھ کو انگیج کرنے کیلئے پروگرام اعلان کرنے والے تھے۔


