سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئے، حکومت کردار ادا کرے، عورت فاؤنڈیشن
کوئٹہ (انتخاب نیوز) عورت فاؤنڈیشن بلوچستان اور جذبہ ضلعی فورم بلوچستان کی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سیلاب سے صوبے میں لاکھوں افراد،بچے باالخصوص خواتین خوف و ہراس سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئی ہیں،حکومت،سماجی ادارے، افراد، این جی اوز کو بلوچستان کی دوبارہ تعمیر اور بحالی میں اپنا بھرپور اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا،عورت فانڈیشن نے خواتین، بچوں، بوڑھوں اور خاص طور پر حاملہ خواتین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ملک گیر مادر لینڈ فلڈ ریلیف مہم شروع کی ہے سیلاب کے سب سے زیادہ کمزور متاثرین کو ضروری سامان فراہم کرنے کیلئے ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ یہ بات عورت فاؤنڈیشن بلوچستان اور جذبہ ضلعی فورم بلوچستان کی یاسمین مغل، شاہدہ ارشاد، فرح اشرف، ثمینہ نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں حفظان صحت کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور سنگین بیماریوں کا خطرہ ہے۔ سینکڑوں بے گھر بچوں کو آلودہ پانی اور صفائی کی کمی کے نتیجے میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور پیچش جیسی بیماریوں سے موت کا خطرہ ہے۔ پورے پاکستان میں 10 ملین ایکڑ سے زیادہ گندم، کپاس، گنے اور دیگر فصلیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں تک غذائی عدم تحفظ کے سنگین خدشات ہیں۔انہوں نے کہاکہ خواتین، خاص طور پر گھر کی سربراہ خواتین اور حاملہ خواتین کو بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے انہیں امداد تک کم رسائی حاصل ہے کیونکہ حکومت اور امدادی تنظیموں کی طرف سے امدادی کوششیں اکثر ان کی مخصوص ضروریات کو پورا نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہاکہ یو این ایف پی اے کی ایک کے مطابق طبی خدمات اور سامان کی کمی کی وجہ سے اس وقت تقریبا ساڑھے چھ لاکھ سے زائد حاملہ خواتین سیلاب متاثرین میں شامل ہیں۔جس میں 73ہزار خواتین کی ڈیلیوری آئندہ ماہ متوقع ہے، انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے علاوہ، سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین اور لڑکیاں کم غذائیت، خون کی کمی، حفظان صحت اور صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر خطرناک بیماریوں سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے حکومت بلوچستان کے مشکلات اور پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیاہے۔موجود صورتحال سے نمٹنا اکیلے بلوچستان حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ بارشوں سے وسیع پیمانے پر صوبے بھر میں کچے مکانات منہدم اور بلوچستان کی ایک بہت بڑی آبادی اس وقت بے گھر ہوچکی ہے اور مشکل کی زندگی کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شدید بارشوں نے بلوچستان میں تیار فصلات کو تباہ کردیا لوگوں کے باغات سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔جبکہ لائیو سٹاک کے شعبے کو صوبے میں پہلی بار اتنے وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اور لوگ مال ومویشی سے محروم ہوگئے۔ بلوچستان میں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش لائیو سٹاک اور زرعی شعبہ پر تھا جوکہ بارشوں نے تباہ کردیا اور بلوچستان کے لوگ نان شبینہ کو محتاج ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ سیلاب سے بلوچستان کے 31اضلاع بلواسطہ یا بلا واسطہ متاثر ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ایک اندازے کے مطابق اب تک 9,182,616 (اکانوے لاکھ بیاسی ہزار چھ سو سولہ) افراد اور5لاکھ مویشی متاثر ہوئے ہیں۔ جو کہ بلوچستان کے لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے بلوچستان میں لاکھوں افراد، بچے باالخصوص خواتین خوف و ہراس سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں ہر حکومت،سماجی ادارے، افراد، این جی اوز اور ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور بلوچستان کی دوبارہ تعمیر اور بحالی میں اپنا بھرپور اور عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ عورت فانڈیشن نے خواتین، بچوں، بوڑھوں اور خاص طور پر حاملہ خواتین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ملک گیر مادر لینڈ فلڈ ریلیف مہم شروع کی ہے۔ سیلاب کے سب سے زیادہ کمزور متاثرین کو ضروری سامان فراہم کرنے کیلئے ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ عورت فانڈیشن اپنے ضلعی نمائندوں کے ذریعے سیلاب متاثرین کو صاف پانی، پانی کی صفائی کی گولیاں، خشک اناج، چاول، آٹا، بنیادی غذائی اشیا، وٹامنز، ادویات، صابن، ذاتی حفظان صحت کی مصنوعات اور کھانا پکانے کے برتن فراہم کرنے کے لئے عطیہ کردہ فنڈز کا استعمال کررہی ہیں اس سلسلے میں عورت فاؤنڈیشن نے قومی اور صوبائی سطح پر فنڈ ریزنگ کی ایک قومی مہم بھی چلارہی ہیں۔ اس مہم میں خواتین کی فوری ضروریات بشمول سینیٹری نیپکن، زیر جامہ اور دیگر ضروری لباس کی فراہمی پر بھی خاص طور پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ہر عطیہ سیلاب زدگان کی زندگی میں فوری فرق ڈالے گا۔ انہوں نے خواتین، بچوں، بڑھے و ضعیف افراد اور حاملہ خواتین کے مسائل کو سامنے لاتے ہوئے حکومت، محکمہ پی ڈی ایم اے اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ متاثرین کو امداد فراہم کے لئے ہما رے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کو جلد از جلد ریلیف پہنچایا جاسکے۔


