آٹا چینی سکینڈل، وزیراعظم عمران خان کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کرنے پر غور شروع

اسلام آباد:آٹا چینی سکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے بعض اہم سوالات کے جوابات نہ ملنے پر وزیراعظم عمران خان کو بھی کمیشن کے روبرو طلب کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سبسڈی کی سفارش کرنے والے شوگر ایڈوائزری بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین اور موجودہ مشیر تجارت رازق داؤد کو بھی طلب کیا جائے گا کہ انہوں نے سب سڈی کی سفارش کیوں کی تھی کیونکہ منگل کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کمیشن کے روبرو یہ بیان دیا تھا کہ انہوں نے بطور چیئرمین اقتصادی رابط کمیٹی اس وقت شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سفارش پر ہی چینی کی برآمد پر سب سڈی کی سفارش کی تھی اور معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا تھا زرایع نے بتایا کہ بدھ کو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بھی کمیشن کے اراکین کے بیشتر سوالات کا جواب نہیں دے سکے اور انہوں نے ایک تحریری بیان کمیشن کے سامنے دیا ہے جبکہ کمیشن سے کہا ہے کہ اگر ان کے کوئی سوالات ہیں تو وہ انھیں بھیج دیے جائیں زبانی جواب دینے سے وہ گریز کرتے رہے کمیشن مونس الٰہی،خسرو بختیار اور جہانگیر ترین سے بھی مزید سوالات کرے گا اور انھیں بلایا جائے گا جبکہ کمیشن۔کے اراکین میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس سارے معاملے میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو بھی طلب کیا جائے اس کا اپوزیشن نے مطالبہ بھی کر رکھا ہے جبکہ کمیشن کے اراکین اس حوالے سے کثرت رائے سے فیصلہ کریں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ خسرو بختیار فیملی نے پنجاب حکومت سے دوہزار انیس میں 80 ملین سبسڈی کی مد میں حاصل کیے تھے۔۔جہانگیرترین،مونس الہی اور چوہدری منیر نے فریٹ چارجز کی مد میں بھی کروڑوں روپے وصول کیے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں