عراق میں ایران کیخلاف مظاہرے، فورسز سے جھڑوپوں میں متعدد افراد زخمی
بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت مخالف مظاہروں کی تیسری برسی پر ہزاروں عراقیوں نے ایران کے اثر و رسوخ اور مداخلت کے خاتمے اور عراقی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ عراق کے دارالحکومت میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے کرپشن مخالف مظاہروں کی تیسری سالگرہ کے موقع پر اپنے ملک کے اندرونی معاملات سے ایران کے ہاتھ کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوشل نیٹ ورکس پر "ایران برا برا، بغداد ہورا ہورا” کے نعرے کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین چاہتے ہیں کہ ایران اس ملک سے نکل جائے۔ اے ایف پی کا رپورٹر لکھتا ہے کہ اس مظاہرے میں، جو 9 اکتوبر بروز ہفتہ بغداد میں منعقد ہوا، "بہت زیادہ نوجوان مظاہرین” نے نعرہ لگایا: "لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت گر جائے۔” بغداد کے تحریر اسکوائر پر ہزاروں افراد نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ ایک عراقی کارکن علی الحبیب نے کہا: "تمام پل اور سڑکیں بند ہیں کیونکہ حکام مظاہرین سے خوفزدہ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی میدان میں اقتدار کی اندرونی کشمکش جو قوم کی مرضی کو یکسر نظر انداز کرتی ہے قابل مذمت ہے۔ پولیس اہلکاروں نے آنسو گیس پھینک کر مظاہرین کو گرین زون میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ بغداد کا گرین زون ایک اعلیٰ حفاظتی زون ہے جس میں سفارت خانے اور اہم سرکاری دفاتر شامل ہیں۔ حال ہی میں مظاہرین نے اس علاقے کے مضافات پر ہفتوں سے قبضہ کر رکھا تھا۔ عراق ایک طویل عرصے سے سیاسی بحران سے نمٹ رہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے اس ملک میں کوئی نئی حکومت نہیں بن سکی ہے۔


