حب کو ضلع بنانے والے نظام اپنے ہاتھ میں کرنا چاہتے ہیں، جام کمال
بیلہ (انتخاب نیوز) حب کے حوالے سے ہماری خواہشات اور خیالات واضح ہیں، ہم نے ہمیشہ حب کو ترقی دی، اب جو سلسلہ ضلع کا ہے صالح بھوتانی اس حوالے سے حب کو ضلع بناکر پورا انتظامی ایڈمنسٹریشن نظام اپنے ہاتھ میں کرنا چاہتے ہیں حب کی ترقی کے حوالے چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ سارا سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے ہے، ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حب کو ترقی ملے، ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حب ضلع کے حوالے سے معزز ہائی کورٹ میں اپنے مو¿قف کو واضح طور پر بیان کروں گا ضلع کی ضرورت وہاں پڑتی ہے، جہاں سہولتوں کا فقدان ہو الحمدللہ حب ایک میونسپل کارپوریشن ہے حب میں سیشن کورٹ لیبر کورٹ موجود ہے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایری گیشن کے ایکسئینز اور ایم ڈی لیڈا کے دفاتر اسسٹنٹ کمشنر اور بی ڈی اے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن کا دفتر بھی حب میں ہے، صرف ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کے دفاتر حب میں نہیں ہیں۔ جام کمال خان نے کہا ہے کہ عموماً چیزوں کا مطالبہ وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی سرکاری دفاتر نہ ہوں، حب ایک میونسپل کارپوریشن اور گڈانی میونسپل کمیٹی ہے ان تمام چیزوں کو معزز ہائی کورٹ میں واضح کروں گا، ان چیزوں کے پیچھے صرف اور صرف ایک سیاسی مقصد ہے، بہت سارے لوگوں کی طرف سے حب ضلع کے حوالے سے میرے مو¿قف پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ میری قبائلی اور سیاسی ساکھ یا حیثیت متاثر ہوگی یہ تاثر غلط ہے کسی علاقے کے بڑے یا سیاسی نمائندے کیلئے سیاسی باﺅنڈری کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی میری قبائلی حیثیت اور سیاسی حیثیت متاثر ہوگی حب سے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن میں اکیس ہزار ووٹ لئے اگلے فریق نے پچیس ہزار ووٹ لئے حب میں میرا اتنا بڑا ووٹ بینک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بیلہ سے ہیڈ کوارٹر اوتھل منتقل ہونے سے یہ دیکھا کہ بیلہ بہت پسماندہ رہ گیا اور اوتھل میں بہت ترقی ہوئی، اسی لئے اورماڑہ کو لسبیلہ سے اس لئے الگ کیا گیا کہ اورماڑہ گوادر سے قریب تھا اب اورماڑہ زیادہ پسماندہ ہے، نیوی کی اسٹیبلشمنٹ نہ ہوتی تو ضلع کی طرف سے وہاں سہولتیں نہ ہوتیں، ایسا نہ ہو کہ آج ایسا فیصلہ ہو جس سے ہم ایک ضلع کو بہت پسماندگی کی طرف لے جائیں۔ انہوں کہا کہ میری حب کے دوستوں اور وہاں کے لوگوں سے اپیل ہے کہ ہم نے ہمیشہ آپ لوگوں کیلئے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ کام بھی کرکے دکھائے ہیں، آگے بھی کام کریں گے لیکن ان چیزوں کو تھوڑا طے کرنی کی ضرورت ہے ایک طریقہ کار واضح ہوجائے، اس طریقہ کار کے بعد جو بھی فیصلہ ہوگا ہم نے پہلے بھی کہا ہے ہمیں منظور ہوگا لیکن بغیر طریقہ کار عوامی رائے اور مشورے اور تفصیلی ڈیٹا کی لکیریں کھینچ کر صالح بھوتانی اپنی ایک کونسیٹیوسی میں سیٹ بنانا چاہتے ہیں جس سے لسبیلہ کے لوگوں کی حق تلفی ہوگی انشااللہ معزز ہائی کورٹ کے ذریعے ایک فیصلہ آئے گا جو سب کو قبول ہوگا۔


