جشن یا ماتم

تحریر : انور ساجدی
حالیہ ضمنی انتخاب میں عمران خان کی کامیابی پر دو رائے ہیں مثال کے طور پر 6 نشستوں پر کامیابی کو تحریک انصاف ریفرنڈم قرار دے رہی ہے لیکن یہ بھول رہی ہے کہ اس کی دو اہم نشستیں ہاتھ سے نکل گئی ہیں ملتان کا مضبوط قلعہ پیپلز پارٹی نے فتح کرلیا ہے جبکہ پارٹی کے ایک کارکن نے عمران خان کو ملیر کی نشست پر شکست دے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ ناقابل شکست نہیں ہیں ہاں تحریک انصاف یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ عمران خان اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں خاص طور پر خیبرپشتونخواءمیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے تحریک انصاف کی کمزوری یہ ہے کہ پارٹی سندھ اور بلوچستان میں ابھی تک خاطر خواہ جڑ نہیں پکڑسکی یعنی 70 نشستوں پر اس کی کامیابی کا تناسب بہت کم ہے اگر آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف دوتہائی اکثریت حاصل نہ کرسکی تو اس کا ایک بڑا فیکٹر یہی ہوگا ایک لمحہ فکریہ ملک کی سب سے بڑی یا دوسری بڑی جماعت سمجھی جانے والی ن لیگ کا برا حشر ہے اگرچہ جماعت تنظیمی اور مقبولیت کے لحاظ سے اسی طرح کمزور رہی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں اپنی موجودہ پوزیشن کھودے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ تیسرے نمبر پر چلی جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ کے پاس کوئی جاندار بیانیہ اور مو¿ثر پروگرام نہیں ہے کافی زمانے سے اس کی طاقت جی ٹی روڈ کے شہروں اور قصبوں میں تھی جبکہ تاجر صنعتکار اور سفید پوش مڈل کلاس اس کی طاقت کا سرچشمہ تھے لیکن عمران خان نے اس قوت میں ڈینٹ ڈال دیا ہے اگر ن لیگ ”بڑوں“ کا کہا مان کر عمران خان کے خلاف جلد بازی سے کام لیکر تحریک عدم اعتماد نہ لاتی تو عمران خان کی سیاسی قوت میں اس قدر اضافہ نہ ہوتا لیکن مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہوکر ایک طرف ن لیگ نے خطرناک جوا کھیلا جس میں وہ تقریباً ہار گئی ہے جبکہ دوسری طرف وہ عمران خان کے چور ڈاکو والے بیانیہ کا کوئی توڑ پیش نہ کرسکی حالانکہ اس کے پاس بہت مواد تھا اور وہ ثابت کرسکتی تھی کہ عمران خان کوئی دیانتدار صادق اور امین نہیں ہیں ان کے خلاف مالم جبہ سے لیکر توشہ خانہ تک لوٹ مار اور بددیانتی کے بے شمار ٹھوس ثبوت ہیں ن لیگ کی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ اس کا داخلی انتشار ہے پارٹی میں اندرونی طور پر شدید اختلافات ہیں جو کچھ شہباز شریف کررہے ہیں بڑے بھائی اس طرز عمل کو پسند نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز جو اپنے والد کے موقف کی ترجمان ہیں اکثر اوقات اپنے چاچا کی حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتی ہیں مسلم لیگ ن کو ازسر نو تنظیم سازی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کافی عرصہ سے پنجاب میں پارٹی کی تنظیم غیر مو¿ثر نظر آتی ہے اس کے ساتھ ہی اسے سوچنا چاہئے کہ وہ موجودہ عبوری حکومت کی ناقص کارکردگی اور بیڈ گورننس کو لیکر آئندہ سال کے عام انتخابات میں کیسے کوئی مو¿ثر کارکردگی دکھاسکے گی مسلم لیگ ن اس وقت تین صوبوں میں تو ہے ہی کمزور مگر اپنے گھر میں بھی اسے عمران خان جیسی آفت کا سامنا ہے اس جماعت نے عمران حکومت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی اپنے سر لیکر بہت ہی خسارے کا سودا کیا ہے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کو موجودہ زوال سے صرف نوازشریف ہی بچاسکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میاں صاحب جیل جانے کے خوف سے جلاوطنی کو طول دے رہے ہیںحالانکہ انہیں فوری طور پر واپس آنا چاہئے اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات سے پہلے وہ بری ہوکر اپنی جماعت کی انتخابی مہم چلائیں وہ اپنی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر کی طرح عدالتوں سے بریت کا پروانہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ اس وقت میاں صاحب اور طاقت کے عناصر کے درمیان ایکتا ہے یہ اس ڈیل کا نتیجہ ہے جو لندن میں ایک سال پہلے طے پائی تھی اگرچہ اس ڈیل کے ذریعے ن لیگ کو حکومت تو مل گئی لیکن بہ حیثیت پارٹی اسے شدید نقصان پہنچا کئی ن لیگی رہنماﺅں کا خیال ہے کہ عمران خان کے جن کو جن قوتوں نے بوتل سے باہر نکال کر ”دیو“ بنادیا ہے اسے واپس بھیجنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے لیکن وہ وقت ابھی نہیں آیا کیونکہ مقتدرہ اس وقت اپنی نئی تنظیم سازی میں مصروف ہے اور اس کادھیان بالکل سیاست کی طرف نہیں ہے معاملات صاف اس وقت ہونگے جب 29 نومبر کو ایکس ٹینشن یا نئی تقرری کا فیصلہ ہوجائےگا عمران خان مختلف حیلے اور حربے استعمال کرکے نومبر کے حساس معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن مقتدرہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑرہا ان کے خیال میں عمران خان کی اچھل کود معمول کا سیاسی عمل ہے بہرحال جوبھی کھیل ہوگا اس کا آغاز نومبر کے بعد ہوگا جو بھی نئی قیادت آئے گی وہ عمران خان سے آئندہ انتخابات کے بارے میں مذاکرات کا عمل شروع کرے گی اگر نئی قیادت نے عمران خان کو خاص رعایت دی تو عام انتخابات جون سے پہلے ہوسکتے ہیں ورنہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اگست سے پہلے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے کیونکہ پاکستان معاشی اعتبار سے ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکا ہے اگر 27 ممالک اپنے قرضوں کو ری شیڈول نہ کریں اور آئی ایم ایف اقساط کی ادائیگی پر اڑے رہے تو بہت ہی مشکلات پیدا ہوجائیں گی اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تو سمجھو کہ اتحادی حکومت زندہ ذفن ہوگئی اس سے بچنے کےلئے اسحق ڈار ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں لیکن عمران خان نے جو سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ہے اس کی وجہ سے حکومت کو ناکامی کا سامنا ہے اوورسیز پاکستانی کم پیسے بھیج رہے ہیں بدانتظامی اور کساد بازاری کی وجہ سے ایکسپورٹ میں کمی آئی ہے جبکہ سیلاب کی وجہ سے خسارہ الگ ہے۔
پشتونخواءاور فاٹا میں حکومت کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے اس بدامنی کو روکنے کی بجائے عمران خان دیدہ دلیری کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کو روکنا مرکزی حکومت کا کام ہے وہ صوبائی حکومت کو بری الزمہ قرار دے رہے ہیں حالانکہ کئی ہفتوں سے وزیرستان اور سوات کے عوام ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل کر مظاہرے کررہے ہیں خود پختونخواءحکومت کے زعما جان بخشی کے عوض ٹی ٹی پی کو تاوان ادا کررہے ہیں اس آفت کے علاوہ پختونخواءکی صوبائی حکومت مالی اعتبار سے دیوالیہ بھی ہوچکی ہے لیکن عمران خان کی مقبولیت برقرار ہے حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا نتیجہ اس کاواضح ثبوت ہے عمران خان صوبہ سرحد کےلئے ایک اور خان قیوم خان بن چکے ہیں قیوم خان نے 1948 سے اپنی موت تک صوبے کی جان نہیں چھوڑی وہ مقتدرہ کے پسندیدہ رہنما تھے انہیں ڈاکٹر خان کی حکومت برطرف کرنے کے بعد مسلط کیا گیا تھا۔
عمران خان اور قیوم خان میں کئی چیزیں مماثل ہیں مثال کے طور پر قیوم خان جوکہ ایک کشمیری تھے وہ پختونوں کے لیڈر بن بیٹھے اس کی طاقت کا سرچشمہ پشاور شہر ہزارہ اور کوہاٹ کی شہری آبادی تھا وہ 1970 کے انتخابات میں این اے ون پشاور سے بھٹو سے شکست کھاگئے تھے لیکن پھربھی صوبہ کے اراکین قومی اسمبلی اس کی جماعت کے تھے اور بھٹو نے قیوم خان کو اپنا وزیر داخلہ مقرر کیا تھا وہ ان کا مذاق بھی بہت اڑاتے تھے ایک اجتماع میں کہا کہ
آگے بھی خان پیچھے بھی خان
ڈبل بیرل خان
ایک مرتبہ کہا کہ خان صاحب آپ کو لندن میں ہائی کمشنر بناکر بھیجوں گا وہاں پر جو آپ کا شوق ہے اس کی قانونی طور پر اجازت ہے قیوم خان نے تمام عمر باچا خان کے پیروکاروں سے جنگ لڑی اور بابڑہ کے مقام پر ہزاروں خدائی خدمت گاروں کا اجتماعی قتل کیا لیکن اس کے باوجود مقتدرہ نے اسے اقتدار کی کرسی پر براجمان کئے رکھا عمران خان کا بھی خاص ہدف باچا خان کے پیروکار ہیں انہوں نے پشاور سے غلام احمد بلور کو 25 ہزارووٹوں سے شکست دی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پشاور کی ہندکو برادری نے اپنے ہی ایک سرکردہ فرد بلور خاندان کو خیربادکہہ دیا ہے جبکہ ان کی جگہ ایک اور ہندکو بولنے والے عمران خان کا انتخاب کیا ہے چارسدہ میں اگرچہ ایمل ولی خان نے تگڑا مقابلہ کیا لیکن وہاں کے پشتونوں نے عمران خان کو پشتون سمجھ کر ووٹ دیا ایک اور وجہ چارسدہ اور مردان میں آبادی کے توازن میں حالیہ برسوں میں آنے والی تبدیلی ہے جس نے اے این پی اور شیرپاﺅ کی طاقت کی سیاسی طاقت کم کردی ہے۔
مردان میں جے یو آئی کی شکست بھی بڑا سیاسی واقعہ ہے اسی نشست پر مولانا حسن جان نے خان عبدالولی خان کو شکست دی تھی لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے آئندہ انتخابات میں حالات ایسے نہیں رہیں گے کیونکہ فیصلہ مقتدرہ کرے گی کہ کس طرح کی حکومت لانی ہے اور ملک کو کس طرح چلانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں