ایک دلت کانگریس پارٹی کا صدر
تحریر : انور ساجدی
بھارت میں طویل عرصہ سے پے در پے شکستوں کے بعد آل انڈیا کانگریس نے ایک دلت ملک ارجن کو پارٹی سربراہ مقرر کیا ہے کانگریس کی تاریخ میں یہ پہلے ہریجن دلت یا شودر ہیں جنہیں یہ عہدہ دیا گیا ہے لال بہادر شاستری کے دیہانت کے بعد اندراگاندھی کو کانگریس کی سربراہ کا عہدہ دیا گیا تھا 1960 کی دہائی سے ابتک یہ عہدہ اندراگاندھی کے خاندان میں چلا آرہا تھا اس سے قبل اپنی موت تک جواہر لعل نہرو کانگریس کے عملی سربراہ تھے نہرو کا خاندان کشمیری پنڈت اور موتی لعل کے زمانے سے سیاست پر اس کی عملداری تھی شاید اسے تاریخ کا جبر کہا جائے یا حالات کی تبدیلی کا شاخسانہ کہ ایک برہمن کی جگہ ایک دلت نے لی ہے۔
اندراگاندھی کو طویل اقتدار کے بعد جبری نس بندی کے قانون ایمرجنسی کے نفاذ اور سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر آپریشن کے بعد عام انتخابات میں عبرتناک شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا انہیں امیٹھی کے آبائی حلقہ سے ایک سندھی وکیل رام جیٹھ ملانی نے دوتہائی اکثریت سے شکست دی تھی ان انتخابات کے نتیجے میں جنتا پارٹی برسراقتدار آئی تھی اور کانگریس کے ایک منحرف رہنما مرارجی ڈیسائی کو وزیراعظم بنایا گیا تھا مرارجی کے بعد متعدد وزیراعظم آئے جن میں دیوگوڑا گجرال وغیرہ شامل تھے لیکن ووٹرز نے ہندوستان کو آزادی دلانے والی جماعت کانگریس کو دھتکار دیا اقتدار سے آﺅٹ ہونے کے بارے میں ہزاروںمضامین اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور اس کی وجہ اندراگاندھی کی آمرانہ روش کو ٹھہرایا گیا تھا حالانکہ اندرا نے 1971 میں پاکستان کو دولخت کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا لیکن انڈین ووٹرزنے اسے کارنامہ نہیں سمجھا بلکہ انہوں نے داخلی حالات کو پیش نظر رکھا کانگریس کے زوال کا ایک بڑا فیکٹر انتہا پسندی اور فرقہ واریت تھی جب ایل کے اڈوانی اور اٹل بہاری واجپائی نے دو انتہا پسند ہندو دانشوروں کے طے کردہ اصولوں پر بی جے پی کی بنیاد رکھی تو یہ نعرہ لگایا گیا کہ ”بھارت ماتا“ سناتن دھرم ماننے والوں کا ہے یعنی یہ ہندوتوا نظریہ کارجیا تھا 1990 کی دہائی میں جو انتخابات ہوئے ان کے نتیجے احیامیں پاکستانی شرنارتھی یعنی مہاجر اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم بن گئے جبکہ ایک بھارتی مہاجر میاں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم بن گئے نواز شریف کو جالندھر سے تعلق رکھنے والے فوجی حکمران جنرل ضیاﺅ الحق نے اپنا سیاسی جانشین بنایا تھا شریف خاندان کا تعلق امرتسر کے گاﺅں ”جاتی امرا“ سے تھا شریف خاندان کو اپنے گاﺅں سے اتنا لگاﺅ تھا کہ انہوں نے پہلے گوالمنڈی اور اس کے بعد ماڈل ٹاﺅن کے مکانات کو چھوڑا کر رائے ونڈ میں 18 سو ایکڑ پر مشتمل جو محل بنایا اس کا نام جاتی امرا کے نام پر رکھ دیا جس طرح بی جے پی ہندوستان میں ہندوتوا کا نعرہ لگارہی تھی اسی طرح جنرل ضیاﺅالحق پاکستان میں اسلامی نظام کا نعرہ لگاتے تھے کافی عرصہ تک میاں نواز شریف بھی یہی نعرہ لگاتے تھے لیکن 1997 میں آکر وہ جنرل ضیاﺅالحق کے نظریات سے برگشتہ ہوئے انہوں نے اپنے ماضی پریشیمانی کا اظہار کیا وہ کئی سالوں تک ضیاﺅالحق کی برسی مناتے تھے اور انہیں عالم اسلام کے عظیم رہنما قرار دیتے تھے۔
بہرحال ہندوستان میں جو صورتحال کانگریس کو درپیش ہے اسی انجام سے پاکستان پیپلز پارٹی دو چار ہوئی کانگریس کے زوال کے اسباب الگ تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے زوال کے عوامل جدا پاکستان میں مقتدرہ نے 1977 میں مارشل لگاکر پیپلز پارٹی پر جان لیوا حملہ کردیا 1979 میں اس کے بانی کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو قید کیا گیا سینکڑوں کو پھانسی دی گئی اور لاکھوں افراد کو سرعام کوڑوں کی سزا دی گئی ان قہرآلود اقدامات کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ڈائنوسار سے چھوٹا کرکے گرگٹ بنادیا گیا رہی سہی کسر اس وقت پوری کردی گئی جب محترمہ بےنظیر کو کمپنی باغ راولپنڈی کے سامنے قتل کردیا گیا یہ کام طاقت کے عناصر نے اپنے اتحادی طالبان کے ساتھ مل کر کیا بےنظیر کی موت کے بعد یہ سمجھا گیا کہ یہ پارٹی بھی محترمہ کے ساتھ دفن ہوگئی ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور یہ پارٹی زندہ رہی مخالفین نے آصف زرداری کو ایک شیطان راسپوریٹس اور دجال کے روپ میں پیش کیا حتیٰ کہ اس وقت کی مقتدرہ لاڈلے اور آج کے معتوب نوازشریف نے زرداری کو مسٹرٹین پرسنٹ کانام بھی دیا 9 برس تک جیلوں میں ڈالا بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا حتیٰ کہ ان کی زبان بھی کاٹ دی گئی پھر خدا کر کرنا یہ ہوا کہ پانامہ اسکینڈل کے ذریعے میاں نواز شریف مسٹر سو فیصدثابت ہوگئے پیپلز پارٹی کو جو پنجاب سے دیس نکالا دیا گیا وہ کبھی دوبارہ وہاں پر جم نہ سکی خیر اس کا تو معاملہ الگ ہے لیکن 1990 کی کانگریس اور موجودہ مسلم لیگ ن کا موازنہ کیا جاسکتا ہے ن لیگ ایک شخص اور ایک خاندان کے گرد گھومتی ہے جیسے کہ کانگریس تھی آخر کار راہول گاندھی نے یہ بنیادی فیصلہ کیا کہ پارٹی کو خاندانی اثرات سے آزاد کیا جائے چنانچہ انہوں نے پارٹی صدر کے انتخابات کا فیصلہ کرلیا جو ووٹ پڑے وہ حیران کن تھے ایک انتہائی پڑھے لکھے دانشور اور دبنگ رہنما ششی تھرور کو صرف ایک ہزار ووٹ ملے جبکہ دلت رہنما ملک ارجن کو سات ہزار سے زیادہ ووٹ پڑے ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ ششی تھرور کے جنسی اسکینڈل ہوں کئی سال پہلے ان کی اہلیہ قتل ہوئی تھی اور ایک پاکستانی خاتون صحافی کے ساتھ ششی تھرورکا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔
صدارتی انتخاب کے بعد راہول گاندھی نے کہا ہے کہ پارٹی صدر سپریم پاورہیں اور وہ ان کے سامنے سرنڈر کرتے ہیں وہ مجھے کوئی رول دیتے ہیں یا نہیں یہ ان کی مرضی
میرا خیال ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو کانگریس کی تقلید کرنی چاہئے اور پارٹی کو ”ڈائناسٹک“ قیادت کا سلسلہ ترک کردینا چاہئے۔
اگرچہ شریف خاندان کا سلسلہ ”آہینہ“ سے لگتا ہے لیکن اس وقت یہ خاندان اپنے آپ کو سپریم سمجھتا ہے اور اس کا طرز عمل بادشاہوں اور شہزادوں جیسا ہے ان کا لائف اسٹائل ہائی اسٹینڈرڈ بالکل مغل بادشاہوں جیسا ہے پارٹی کے سپریم لیڈر نواز شریف ہیں تو نائب صدر ان کی صاحبزادی مریم پارٹی صدر شہباز شریف جوکہ وزیراعظم ہیں ان کا صاحبزادہ حمزہ شہباز ان کے جانشین ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے یہ کونسا طریقہ ہے پارٹی چلانے کا حالانکہ اس پارٹی میں قربانی دینے والے بے شمار رہنما ہیں مثال کے طور پر سعد رفیق رانا احسن اقبال رانا ثناءاللہ خواجہ صفدراور بے شمار لوگ یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ پارٹی کو چلاسکیں اگر ن لیگ کو دوبارہ ایک فعال پارٹی بنانا ہے تو شریف خاندان رضاکارانہ طور پر پارٹی قیادت سے الگ ہوجائے اور ایک شفاف الیکشن کے ذریعے ایک قابل اور فعال رہنما یا کارکن کو قیادت کا موقع دیا جائے ن لیگ یا دیگر جماعتوں میں جن کارکنوں کوکمی کمین یعنی دلت سمجھا جاتا ہے وہی تو ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ایک جمہوری جماعت یا کسی بھی پارٹی کو خاندانی ملکیت سمجھ کر چلانے کی غیر جمہوری روایت ختم کی جائے۔


