تربت، اسکول پرنسپل کے رویے اور بس سروس فراہم نہ کرنے کیخلاف طالبات کا دھرنا
تربت (انتخاب نیوز) طالبات کا اسکول پرنسپل کے رویے اورماہانہ ایک ہزار روپے کرایہ کی مد میں لیکر پھر بھی بس سروس فراہم نہ کرنے کیخلاف سینکڑوں طالبات سراپا احتجاج،کالج روڈ کے چوک پر بلاک کردیا،شدید نعرے بازی،کلسٹربجٹ کیساتھ طالبات کو بس کا کرایہ لیناغریب طالبات کیلئے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے،آل پارٹیز کیچ،طلبہ تنظیم اورسول سوسائٹیزکی میڈیا سے گفتگو ۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت کی طالبات نے سکول پرنسپل کی جانب سے بس کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپے کرایہ وصول کرنے کے باوجود بس فراہم نہ کرنے کیخلاف اور اسکول کے دیگر مسائل حل نہ کرنے کیخلاف طالبات نے کالج روڈ ، چاکراعظم چوک کو چاروں طرف سے بلاک کرکے نعرے بازی کی۔طالبات نے میڈیا نمائندوں کو بتایاکہ ہمارے گھر اسکول سے کئی کلومیٹر دور ہیں اور ہم اسکول بس کیلئے ہر مہینہ ایک ہزار روپے فیس پرنسپل کو دیتے آرہے ہیں اس کے باوجود پرنسپل ہمیں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ طالبات نے کہا کہ ہمارے سکول میں پینے کے پانی کے مسائل ہیں اور جماعت ہشتم سمیت کئی کلاس رومز میں گرمیوں کے موسم میں پنکھے بھی نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ سکول وردی کے صرف قمیص کیلئے 700 روپے لیا جاتاہے، پانی نہ رکھنے پر 100 روپے، وردی کے کلر میں معمولی فرق پر 100 روپے مختلف حیلے بہانوں سے فائن کے نام پر ہم غریب طالبات سے پیسے لیئے جاتے ہیں، سرکاری کلسٹرفنڈاپنی جگہ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں پیسے کہاں خرچ ہورہے ہیں؟۔ طالبات نے مزید کہاکہ سکول میں صفائی والا کام نہیں کرتا اسلئے ہم خود کلاس رومز صفائی کرنے پر مجبورہیں۔ پرنسپل اپنے دفتر میں داخل نہیں ہونے دیتی،ہم بات کرتے وہ کہتی ہے تم بدتمیز ہو اپنے کلاس چلی جائیں۔دوسری جانب تعلیمی آفیسران اورانتظامیہ آفیسران سکول کا دورہ ہی نہیںکرتے تاکہ ہم اپنے مسائل بیان کرسکیں اسلئے مجبورا سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہم و دہم کے طالبات کو کینٹین جانے پر پابندی لگائی گئی ہے، ہائی سیکشن کی استانیاں دباو¿ کا شکار ہوکر انکو پرنسپل کے حوالے سے تحفظات ہیں۔انہوں نے میڈیا سے کہا کہ ہم ا±س وقت تک احتجاج ختم نہیں کرینگے۔ جب تک ہمارے مطالبات مستقل طور پر منظور نہیں کئے جاتے ہیں۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر تربت بہرام سلیم اور گرلز اسکول کے پرنسپل میڈم زمرد واحد بھی مزاکرات کیلئے احتجاج پر پہنچ گئے۔تاھم ان طالبات کو عارضی طور پر بس فراہم کی گئی اور باقی مسائل اور بس ایشو پر کل دوبارہ اسسٹنٹ کمشنرتربت کے آفس میں انتظامیہ اور طالبات میں بات چیت کی یقین دہانی پر احتجاج موخر کردیاگیا۔اس موقع پر آل پارٹیزکیچ کے ڈپٹی کنوینئر ظریف زدگ اور بی ایس او پجار تربت زون کے صدر باہوٹ چنگیز نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس احتجاج کی حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ طالبات کو درپیش جملہ مسائل فوری حل کئے جائیںاورکمشنرمکران ،سیکرٹری تعلیم ،ڈائریکٹرایجوکیشن بلوچستان سمیت متعلقہ حکام فوری طورپر نوٹس لیکر ایک بااختیارکمیٹی بنائیں تاکہ چاردیواری کے اندر طالبات کن مشکلات ومسائل کا شکارہیں اوراصل وجوہات کیاہیں۔


