عمران پر قاتلانہ حملہ
تحریر : انور ساجدی
وزیرآباد میں لانگ مارچ کے دوران جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان دیگر رہنمائوں کے ساتھ اپنے کنٹینر پر کھڑے تھے تو اچانک فائرنگ ہوئی جس سے پیر پر گولی لگنے سے وہ زخمی ہوگئے۔ موقع پر موجود ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا گیا جس نے اپنے اعترفی بیان میں پولیس کو بتایا کہ اس نے یہ کام اس لئے کیا کہ عمران لوگوں کو گمراہ کررہا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ عمران خان کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن ناکام ہوا۔ اس کا واحد ہدف عمران خان تھے وہ کسی اور کو مارنا نہیں چاہتا تھا۔ عمران خان کے قافلہ پر حملہ کے بعد مبینہ حملہ آور کا یہ ابتدائی بیان ہے۔ اس کے بقول یہ اس کا انفرادی فعل ہے اور اس کے پیچھے اور کوئی نہیں ہے۔ ملزم نے کہا کہ جس دن سے عمران خان لاہور سے چلے تھے اس نے حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ملزم وزیر آباد کا رہنے والا ہے، پولیس جب مزید تفتیش کرے گی تو عمران خان پر حملہ کے افسوسناک واقعہ کے محرکات کا پتہ چلے گا۔ یہ بھی معلوم ہوجائیگا کہ یہ کسی منظم سازش کا نتیجہ ہے، اس کے پیچھے سیاسی اسباب و عوامل ہے ، آیا یہ سیاسی مخالفین کی کارستانی ہے یا ایک جذباتی اور مخبوط الحواس نوجوان کا انفرادی عمل ہے۔ مقام افسوس ہے کہ واقعہ کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے اس کا الزام وزیر اعظم ، ایک ادارہ کے ذمہ دار ،وزیر داخلہ اور حکومت پر عائد کیا ہے۔تحریک انصاف کے رہنمائوں کو اس نازک موقع پرصبر و تحمل سے کام لینا چاہئے کیونکہ عمران خان کے زخمی ہونے کے بعد ملکی فضا انتہائی جذباتی ہوگئی ہے اس موقع پر اگر کوئی غیر ذمہ داری کی گئی تو ملک میں بدامنی کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ویسے جب سے عمران خان نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے سیاسی فضا بہت مکدر ہے، ماحول اتنا کشیدہ اور جذباتی ہے کہ حالات کوئی بھی منفی رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس واقعہ سے سیاسی رہنمائوں اور لیڈروں کو سبق سیکھنا چاہئے کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے سیاسی روایات سے ہٹ کر جو زبان عام اجتماعات، ریلیوں اور جلسوں میں استعمال کی جارہی ہے اس نے رنگ دکھانا شروع کردیا ہے جس زہر آلودہ کلچر کابیج بودیا ہے وہ بندوق کی نالیوں سے نکل کر سامنے آرہا ہے حالانکہ سیاست ایک سنجیدہ باوقار اور عوام کی اچھی تربیت کے علم کا نام ہے۔ اطمینان کی بات ہے کہ جناب عمران خان قاتلانہ حملہ میں بچ گئے، اگرچہ ان کی ٹانگ میںگولی لگی ہے تاہم وہ خطرہ سے باہر ہیں۔ خدانخواستہ اگر عمران خان کو کچھ ہوتا تو ملک ایک بہت بڑے بحران میں پھنس جاتا ، ہر طرف توڑ پھوڑ، جلائو گھیرائو اور افراتفری کے مناظر ہوتے جسے کنٹرول کرنے کے لئے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔اللہ عمران خان کو صحت کاملہ دے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2014 سے وہ جو زبان استعمال کررہے ہیں سیاسی مخالفین کو جس ہتک آمیز لہجے میں مخاطب کررہے ہیں اس کی وجہ سے پاکستانی سماج انتہائی زہر آلود اور پراگندہ ہوگیا ہے۔ وہ اپنے تمام سیاسی و غیر سیاسی مخالفین کو اوئے فلاں کہہ کر مخاطب کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ 18 سال میں انہوں نے جس کلچر کی داغ بیل ڈالی ہے اس کا نتیجہ سامنے ہے ۔ تحریک انصاف کے نوجوان اور جذباتی کارکن عمران خان کی ہی زبان استعمال کررہے ہیں حتیٰ کہ حالیہ لانگ مارچ کے دوران ایک شخص کو ڈمی مولانا فضل الرحمن بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور مولانا کی ذات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ تحریک انصاف کی جو سوشل میڈیا فوج ہے ان کی زبان اس کا بیان دشنام طرازی کافی حد تک ناگوار ہے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اگر عمران خان کے لاکھوں چاہنے والے ہیں تو سیاسی مخالفین کے حامیوں کی تعداد بھی بے شمار ہے۔ اگر روز انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو آخر سب کی برداشت جواب دے جائے گی اور اس کا نتیجہ خونریزی کی صورت میں برآمد ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ عمران خان صحت یابی کے بعد اپنا طرز عمل تبدیل کریں گے ، اپنے مطالبات کے لئے پرامن طریقے اختیار کریں گے اور سیاست کے اندر مزید زہر گھولنے سے اجتناب برتیں گے۔اسی طرح ان کے جو سیاسی مخالفین بھی ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ وہ گولی کا جواب گولی اور گالی کا جواب گالی سے نہ دیں بلکہ شائستگی اختیار کریں۔ یہ جو فلم مولا جٹ کی بڑھک بازی ہے اس کا سلسلہ ترک کرنا ہوگا۔ عمران خان پر حملہ کے بعد مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف ، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ یہ ایک اچھی روایت ہے اسے آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی کئی سوالات جواب کے متقاضی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ واقعہ پنجاب کے ایک گنجان آباد شہر کے اندر دن دہاڑے ہوا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہیں۔ مارچ کے آغا زسے قبل اس خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ لانگ مارچ میں خونریزی ہوسکتی ہے بلکہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما فیصل وائوڈا نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا تھا کہ لانگ مارچ خونی مارچ میںتبدیل ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود پنجاب حکومت نے جناب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی سیکورٹی کے لئے فول پروف انتظامات نہیں کئے نہ ہی لانگ مارچ کو بھرپور سیکورٹی فراہم کی گئی۔ اگر اس سانحہ کے لئے کوئی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تو پنجاب پولیس کے سربراہ، چیف سیکریٹری اور دیگر ذمہ داران کو شامل تفتیش کریں اس کے ساتھ ہی جو ملزم پکڑا گیا ہے اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ حادثہ کو فوری طور پرسیل کیا جانا چاہئے تھا اور کارتوسوں کے خول تحویل میں لئے جانے چاہئیں تھے ۔ مقام افسوس ہے کہ اس سلسلے میں پولیس اور متعلقہ انتظامیہ نے کوتاہی سے کام لیا کیونکہ خول واقعہ کے بعد جائے وقوع پر ہی پڑے ہوئے تھے اور لوگوں نے ان کی تصاویر جاری کیں۔تحریک انصاف کی قیادت کو چاہئے کہ اگر یہ سیاسی دشمنوں کی کارستانی نہیں ہے تو اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ دنیا کے سیاسی فرزانےدنیا میں سیاسی پاگلوں کی بے شمار اقسام ہیں ان میں سے بے شمار ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ جب ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتے تھے۔ میڈیا ان کا خاص ہدف تھا۔ اکثر پریس کانفرنسوں میں صحافیوں کے ساتھ ان کی لڑائی ہوتی رہتی تھی، وہ امریکہ کے دو بڑے میڈیا ہائوسز کے سخت خلاف تھے۔ ایک سی این این اور دوسرا نیویارک ٹائمز۔ ہر دفعہ اپنے پریس سیکریٹری سے کہتے تھے کہ میرے ناپسندیدہ صحافیوں کو کیوں بٹھایا ہے۔ اس نے ایک مرتبہ نیویارک ٹائمز کے نمائندہ سے کہا کہ آپ کے لئے یہ بات باعث شرم ہونی چاہئے کہ آپ رسوا کن اخبار نیویارک ٹائمز کے نمائندہ ہیں۔ سی این این کے بارے میں کہ کہ یہ ادارہ میرے خلاف فیک نیوز چلانے کے لئے کھولا گیا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کی یاد جنوبی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل کے حالیہ انتخابات میں شکست کھانے والے امیدوار بولسونارو نے دلائی ۔ سب کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ کو جب جوبائیڈن نے شکست دی تو اس نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے حامیوں نے کیپٹل ہل پر ہلہ بول دیا جبکہ ٹرمپ خود وائٹ ہائوس کا صدارتی دفتر خالی کرنے سے انکاری ہوگیا۔ تاہم اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر سیکورٹی اہلکاروں اور وائٹ ہائوس کے عملہ کو ہدایت کی کہ ٹرمپ کو کوئی سہولت نہ دی جائے۔ کافی دیر کے بعد ان سے کہہ دیا گیا کہ بڑے میاں چلے جائو نیا صدر آنے والا ہے۔ اس طرح بڑی مشکل سے موصوف کودفتر سے باہر نکالا گیا۔ اسی طرح ان کا ایک پیروکار ہے برازیل میں انتہائی رجعت پسند اور ضدی انسان ہے ، حالیہ انتخابات میں اسے برازیل کے ہر دلعزیز ترقی پسند رہنما لولا ڈی سلوا کے مقابلے میں ایک فیصد ووٹوں سے شکست ہوئی بلکہ صدارتی انتخاب میں دونوں میں سے کوئی بھی امیدوار 51 فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکا اس پر رن آف الیکشن ہوئے جس میں بولسونا رور کو شکست کا سامنا کرنا پر۔ شکست کے بعد موصوف نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے پیروکار ہیں۔ اس لئے شکست تسلیم نہیں کرتے، اس کے حامیوں نے سڑکوں پرنکل کر مظاہرے شروع کردیئے۔ ان مظاہروں کے باوجود جب لولا نے اقتدار سنبھال لیا تو بونسونا رو نے اپنے حامیوں کو کال دی کہ ملک بھر میں مظاہرے کرو۔ چنانچہ 70 شہروں میں ان کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہروں کی دلچسپ بات یہ ہے کہ بولسونا رو کے حامیوں نے فوجی بیرکوں کے سامنے جا کر نعرے لگائے کہ فوج آکر اقتدار سنبھالے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو بولسونارو جیسا رویہ پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی یہ رویہ پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر تیسری دنیا کے غیر جمہوری اور ملوکی حکمرانوں میں انتخابی نتائج قبول نہ کرنا کوئی نئی بات نہیں اگرچہ برازیل کے صدارتی انتخاب کے نتائج واضح ہیں لیکن شکست خوردہ صدر بولنسونارو بہت ضدی آدمی ہیں۔ جب تک لولا صدر رہتے ہیں وہ ان کی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے اور اپنے ملک کو افراتفری کا شکار بنا کر اس کی اقتصادی ترقی روکے رکھیں گے۔ ماننے کی بات ہے کہ انڈیا چند ایک ممالک میں شامل ہے جہاں انتخابی نتائج کے بارے میں کشادہ دلی اور جمہوری رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ انڈیا ہے کہ جہاں مودی جیسا متعصب رہنما کافی عرصہ سے مسلط ہے لیکن کانگریس سمیت سیاسی مخالفین نے سیاسی و جمہوری رویہ اپنایا ہوا ہے۔ کاش کہ ایسا رویہ پاکستان میں بھی ہوتا جہاں ہارنے والی جماعت شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔


