سرکاری اسامیوں پر سیاسی اور رشوت کی بنیاد پر بھرتیاں کی جاتی ہیں، بلوچستان ملازمین اتحاد

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ملازمین اتحاد کے زیر اہتمام بے لگام مہنگائی بیروز گاری بلوچستان حکومت کی جانب سے ملازمین و مزدوروں کے مسائل کے حل کے حوالے سے سرد مہری اختیار کرنے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بلوچستان میں لواحقین کے بھرتیوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے اور مختلف اداروں اور محکموں میں خالی پوسٹوں پر محکمہ فنانس کی منظوری کے بغیر بھاری نذرانوں رشوت اور سیاسی بنیادوں پر غیر قانونی بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھنے، محکمہ بی اینڈ آر میں پرموشن اپ گریڈیشن کے حوالے سے حقوق تسلیم نہ کرنے محکمہ واسا بی ڈی اے میں تنخواہوں کی اوورٹائم کی عدم ادائیگی، کوئٹہ میٹرو پولیٹن کار پوریشن اور اندرون بلوچستان میونسپل کمیٹیوں کے ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی کے واجبات کی عدم ادائیگی محکمہ بی ڈی اے میں ادارے کے چیئرمین کی جانب سے ملازمین و مزدوروں کے معاشی استحصال کرنے وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات کے باوجود کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہ کرنے اور چار چار ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی نہ کرنے محکمہ بی اینڈ آر میں بلاجواز پروموشن کمیٹی کی جانب سے پرموشن میں ٹال مٹول کرنے اور 30 سال سے ملازمین کی اپ گریڈیشن نہ ہونے کیخلاف کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان تمام بڑے شہروں میں بھر پور احتجاجی ریلیاں مظاہرے اور جلسے منعقد کئے گئے کوئٹہ میں مرکزی ریلی کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن سے نکالی گئی جس کی قیادت خان زمان قاسم خان منیر بلوچ عبدالستار معروف آزاد قادر بخش رئیسانی عابدبٹ عارف خان نچاری منظور احمد اور دیگر رہنماؤں نے کی ریلی میں مزدور رہنما دین محمد محمد حسنی ملک وحید کاسی ظفر خان رند تنویر اسلم فضل محمد یوسفزئی عارف بڑیچ میر زیب شاہوانی بور سینکڑوں ملازمین و مزدور شریک تھے احتجاجی ریلی ریلی انسکمب روڈ قندھاری بازار عدالت روڈ جناح روڈ سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی تمام راستے ملازمین نے اپ گریڈیشن پرموشن تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی کیلئے نعرے بازی کی اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی گئی کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت اسکے وزرا اور بیورو کریسی چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات کیخلاف سرے عام لواحقین کی پوسٹوں کو خروخت کررہے ہیں جناب چیف جسٹس اس غیر قانونی عمل کا فوری نوٹس لیں۔بلوچستان ملازمین اتحاد کے زیر اہتمام جلسے سے خان زمان قاسم خان منیر بلوچ ستار خان قادر رئیسانی عبدامعروف آزاد عارف خان نچاری تنویر اسلم عابدبٹ نے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ آج کوئٹہ و اندرون صوبہ غریب ملازمین تنخواہوں پنشن اور ریٹائر ہونے کے باوجود اپنی گریجویٹی سے محروم ہیں 30 سال سے مختلف اداروں میں اپ گریڈیشن نہیں ہوئی پرموشن کے طریقہ کار کو الجھا کر رکھ دیا ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ملازمین سراپا احتجاج بن چکے ہیں حکومت اور اسکے وزرا صرف اپنی ساکھ بچانے کیلئے مگن ہیں اسمبلی میں کوئی قانون سازی نہیں ہورہی اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں مہنگائی بیروز گاری یوٹیلٹی بلز بلا جواز ٹیکس اشیا خورد ونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے ملازمین و غریب عوام کی کمر توڑ دی دوسری جانب ملازمین کو تنخواہوں پنشن اورر ٹائم اور گریجویٹی کے حق سے جان بوجھ کر محروم رکھا جاتا ہے جس سے ملازمین سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔ خان زمان نے کہا کہ غریب عوام ملازمین و مزدوروں کی روز مرہ استعمال کی اشیا آٹے دال چینی گھی سبزیوں کی قیمتیں بھی آئی ایم کے کہنے پر طے کی جاتی ہیں غریب دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوچکا اور اپنے جائز حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہے بلوچستان کا لیبر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مصروف ہے لیبر قوانین کو متنازعہ بنانے اسکی غلط تشریح کرکے ملازمین مزدوروں اور حکمت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے ملازمین اور صوبائی اداروں میں ٹکراؤ پیدا کیا جارہا ہے ملک بھر میں اچھے اور سہل قوانین بنائے گئے بلوچستان میں لیبر ڈیپارٹمنٹ اور اسکے افسران ملازمین کے استحصال کی پالیسیاں بناتے ہیں جو ملک بھر اور عالمی سطح پر بلوچستان اور پاکستان کی بد نامی کا سبب بن رہا ہے۔ مزدور رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں نا انصافی مسائل حل نہ ہونے کیخلاف اپ گریڈیش پرموشن کا حق تنخواہوں پنشن گریجویٹی غیر قانونی بھرتیوں لواحقین کی پوسٹوں کی فروخت اور دیگر مسائل کے حل کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اس کے علاوہ لورالائی سبی ژوب ہرنائی قلات خضدار اوتھل حب اور دیگر شہروں میں مظاہرے و جلسے کئے گئے۔ کوئٹہ جلسے میں اعلان کیا گیا کہ بلوچستان ملازمین اتحاد جلد نئی تاریخ کا اعلان کریگی اور مسائل کے حل کیلئے اداروں میں اور شاہراہوں پر بھر آواز بلند کی جائے گی۔ اور حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں