پنجگور میں کاروبار کی تباہی کے ذمے داری، حکومت اور اسمبلیوں میں بیٹھے قوم پرست ہیں، بارڈر کمیٹی
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور کے سرحدی تحصیل پروم میں گزشتہ 23 دنوں سے بارڈر کمیٹی پروم و کاروباری لوگوں کی جانب سے ای ٹیگ اسٹیکر سسٹم کے خلاف و موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندیش و دیگر مطالبات کے حوالے سے احتجاجی دھرنہ تحصیلدار آفیس کے سامنے ٹینٹ لگا کر جاری ہے گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک وفد تحصیل پروم میں مذاکرات کیلئے گئے تھے جہاں انہوں نے بارڈر کمیٹی پروم سے ملاقات کی بارڈر کے معاملات انکے مطالبات پر گفت شنید ہوئی لیکن بارڈر کمیٹی پروم کے مطالبات عمل کرنے میں ضلعی انتظامیہ قاصر ہے جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے۔ واضح رہے پنجگور کے لوگوں کا گزر بسر بارڈر سے ہی منسلک ہے لیکن پنجگور میں ایران بارڈر کی بندش کی وجہ سے بارڈر سے منسلک لاکھوں لوگ گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، سینکڑوں کاروباری لوگوں نے اپنے تیل کے ڈپو و دیگر کاروبار پنجگور سے دوسرے ضلع منتقل کردیئے ہیں، گزشتہ دو ماہ کے قریب بازار کی رونق بھی ماند پڑ گئی ہے، کاروباری، سیاسی، سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ پنجگور اس وقت مختلف بحرانوں کا شکار ہے، پنجگور میں سب سے بڑے ذریعہ معاش بارڈر کو ضد و عناد کی وجہ سے بند کیا گیا ہے لوگوں کو ملکی و غیر ملکی سوشل میڈیا کے رابطوں سے بھی منقطع کردیا گیا، اس جدید دور میں بھی پنجگور کے باسی احساس محرمیوں کے سایہ تقدیر کا رونا رو رہے ہیں۔ انہوں نے پنجگور میں موبائل ڈیٹا کی بندش پر اداروں کی جانب سے سیکورٹی وجہ کو مسترد کرتے ہوئے پنجگور کو معاشی حوالے سے تباہ کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں سیکورٹی رسک موجود ہے لیکن وہاں مختلف پیکجز لوگوں کو دیے جارہے ہیں لیکن یہاں صرف پابندیاں ہی پابندیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے قوم پرست جماعتوں کے وزیر، ممبران کی خاموشی بھی معنی خیز ہے، سیاسی پارٹیاں اپوزیشن میں فرشتہ لگتی ہیں لیکن جب اقتدار میں آتی ہیں تو انہیں علاقائی مسائل نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید بارڈر کے معاملات پر غور نہیں کیا تو علاقے میں امن و امان، معاشی صورتحال تباہی پھیلنے کا خدشہ ہوگی۔


