حق دو تحریک سے بات کیلئے اختر مینگل وفاقی حکومت کو روک رہا ہے،مولانا ہدایت الرحمن
گوادر (بیورو رپورٹ) سردار عطااللہ مینگل زندہ تھے تو اختر مینگل نظریاتی تھا سردار عطااللہ مینگل کے جانے کے بعد اختر مینگل کا نظریہ بھی دفن ہوگیا ہے وہ وزارت،گورنر، کمیشن،مراعات، ٹھیکہ داری میں حصہ لے رہاہے۔ وفاقی حکومت ہم سے اس لئے بات نہیں کررہی کہ انکے بات کرنے سے سردار اختر مینگل ناراض ہوجائے گا۔ گوادر یا بلوچستان کا مالک سردار اختر مینگل نہیں ہے اگر روزگار کو کھولنے سے۔ ٹرالروں کو بھگانے سے۔ کوسٹ گارڈ سے ماہی گیروں کی کشتیاں و گاڈیاں واپس کرانے سے سردار اختر مینگل ناراض ہوجاتا ہے تو ہو جائے۔ سردار اختر مینگل وفاقی حکومت کو بلیک میل کررہا ہے کہ حق دو تحریک والوں سے بات نہ کیا جائے۔ ہم سیاسی پارٹیوں کیخلاف نہیں اور نہ ہی شخصیات کے خلاف ہیں اگر سردار اختر مینگل حکومت کو ہم سے بات کرنے سے روکتی ہے تو لامالا سردار اختر مینگل کی مخالفت ہوگی۔ وفاقی حکومت ہم سے بات کرے گی ضرور کرے گی۔ ہم پرامن ضرور ہیں لیکن بے غیرت نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے حق دو تحریک کی جانب سے وائی چوک پر منعقدہ احتجاجی دھرنے کے بیسویں روز سے خطاب کرتے ہوتے کیا۔ انہوں نے کھاکہ ہم گزشتہ بیس دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں لیکن ٹرالروں کو پکڑنے کے بجائے آج بھی انکی نمبرنگ کی جارہی ہے۔ ڈائریکٹر فشریز نے چار سو ٹرالروں کا ضلع لسبیلہ میں نمبرنگ کیا ہے۔ پینسٹھ ٹرالروں کا جیونی میں نمبرنگ ہوچکا ہے۔ اورماڈہ۔ پسنی۔ چربندن میں بھی ٹرالنگ عام ہے۔ انہوں نے کھاکہ ماھیگیروں نے ہرکسی کے لیے بہت سارے مختلف مختلف ریلیاں نکالی ہیں لیکن اب جو ریلی ماہی گیر نکالینگے وہ ریلی سمندر بچاؤ ریلی ہوگی۔ انہوں نے کھاکہ ذیارت میں مقابلے کے نام پر چھ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں گراء جاتی ہیں جن میں ایک شہزاد نامی بھی تھا۔ شہزاد کے گھر والوں کو یہ خوشخبری دی جاتی ہے کہ عید کے وقت شہزاد کو رہاکیا جائے گاآپ شہراد کی عید کی تیاری کریں لیکن عید سے شہزاد نہیں آتا ہے اسکی لاش آتی ہے یہ ہے ملک پاکستان کا نظام اسی نظام کے خلاف ہماری جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہاکہ 74 سالوں میں ہم نے ایک بھی وزیر کو روتے ہوئے نہیں دیکھا ہے بہت ساروں کے لخت جگر لاپتہ ہوئے انکی لاشیں آئیں لیکن کسی وزیر کے آنکھوں سے آنسو نہیں آئے۔ بہت ساری ماں اور بہنوں نے چوکوں چوراہوں پر فریاد و آو زاری کی ہے لیکن آج تک ایک ایم پی اے کی آنکھ تک نم نہ ہوء یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان کے نماھندے بلوچستان کے نہیں ہیں۔ عوام کے نمائندے عوام کے نہیں ہیں انکے اندر بلوچوں کا درد و تکالیف نہیں ہے اور نہ ہی یہ عوام کی حکومت ہے بلکہ یہ ٹھپہ سے آئے ہوئے نام نہاد حکومت ہے جو بے حس ہیں۔ بلوچستان کے حکمران مسلمانوں کی تاریخ پر داغ ہیں اور یہ بھی بلوچستان کی تاریخ ہے کہ بلوچ قوم احتجاج کررہی تھے اور حکمران نشہ کرنے میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ظالم حکمران تمام مسائل کی جڑ ہیں۔ حکمران ارب پتی و کھرب پتی بن رہے ہیں۔ قوم کے پیسوں سے ہرایک ایک بچے کی گاڑی الگ اور ڈرائیور الگ سرکاری ہیں جو بچوں کو الگ الگ اسکول میں لے آتے اور جاتے ہیں لیکن بلوچستان میں اساتذہ نہیں ہے۔ انہوں نیکہاکہ پاکستان ایک ایسا بدقسمت ملک ہے کہ یہاں اسلام بھی نہیں ہے اور کفر بھی نہیں ہے یہاں صرف ظلم ہے۔ پاکستان اگر اسلام و قرآن کا نظام نہیں دے سکتا تو اپنے آقاؤں امریکہ و برطانیہ کا نظام تو دے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے جماعت اسلامی کے ذمہ داران سے یہ سوال کیا ہے اب عوام سے بھی کررھا ہوں کہ ابواعلی مودودی، میاں طفیل، قاضی حسین احمد، سردار عطااللہ، نواب خیربخش مری اور ہمارے چاروں امام نے جیلیں کاٹی۔ تکالیف و تشدد برداشت کی ہے لیکن آج کوئی لیڈر جیل کیوں نہیں جاتا۔ اس سے دو باتیں ہوسکتی ہیں یا ظلم ختم ہوکر عدل و انصاف کا نظام آیا ہے یا پھر سودا بازی کی سیاست ہورہی ہے۔ دونوں باتوں میں ایک بات لازم ہے۔ سیاستدان سرکار سے ٹکر کیوں نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج بے حس، نااہل، نالائق، چور، ڈاکو، بلوچ دشمن حکومت کیخلاف ہے بیس نومبر کو ہرحال میں گوادر پورٹ اور ایکسپریس وے کو بند کیا جائے گا۔ ہم بندوقوں سے نہیں ڈریں گے فوج کو اگر حفاظت کرنی ہے تو سرحدوں کی کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم بیس نومبر کے احتجاج کی میکنزم تیار کررہے ہیں کارکنان بھرپور تیاری کریں۔ اس دن عورتیں بھی نکل جائیں اور آکر دھرنا گاہ سنبھالیں جبکہ مرد گوادر پورٹ اور ایکسپریس وے کو بند کریں گے۔ انہوں نیکہاکہ بیس نومبر کی صبح بلوچستان بھر سے لوگ آکر ہمارے احتجاج میں شامل ہوجائیں۔ احتجاجی دھرنے سے سینئرسیاستدان حسین واڈیلہ، شکیل کے ڈی، حفیظ کھیازئی، شریف میانداد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔


