سینیٹ قائمہ کمیٹی، ملک بھر میں جعلی تعلیمی اداروں کیخلاف کاروائی کی ہدایت

اسلام آباد(انتخاب نیوز)سینیٹ قائمہ کمیٹی وفاقی تعلیم نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ملک بھر میں جعلی تعلیمی اداروں کے خلاف فوری کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے ،کمیٹی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے بی اے پروگرام کے فیس میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے پر اگلے اجلاس میں بریفنگ طلب کر لی۔ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری وفاقی تعلیم ،وائس چانسلر بہاولدین زکریا یونیورسٹی ملتان،وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس کے دوران فیڈرل یونیورسٹی(ترمیمی) بل 2022″ بل کی محرک سینیٹر سیمی ایزدی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بنیادی مقصد وفاقی علاقے میں واقع تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے لیے انٹرن شپ کو لازمی نصاب کا حصہ بنانا ہے جس پر کمیٹی نے ترمیمی بل کے سفارشات کی منظوری دیدی اجلاس کے دوران بہاو¿الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں قانون کے طلبائ کو درپیش مسائل پریونیورسٹی کے VC منصور اکبر کنڈی نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ زیر سماعت ہے اور یونیورسٹی اس وقت تک کوئی تاریخ دینے سے قاصر ہے جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس موقع پر وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ دوسرے اور تیسرے سال کے طلبائ کے امتحانات پر کوئی پابندی نہیں ہے اور معاملہ صرف سال اول کے سپلیمنٹری طلبائ تک محدود ہے۔ جس پر کمیٹی نے قانون کے طلبائ کا امتحان 15 دسمبر 2022 تک کرانے کا حکم دیااجلاس کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے سینیٹ کمیٹی کو یونیورسٹی کی ذمہ داریوں، انتظامی کنٹرول، فیکلٹی اور فیس اسٹرکچر کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی انہوںنے کمیٹی کو بتایا کہ ایچ ای سی کی جانب سے دو سالہ بی اے پروگرام کی بندش کے باوجود یونیورسٹی خود کفیل ہے جس میں یونیورسٹی سالانہ 1.5 لاکھ طلبائ کو داخلہ دیتی ہے چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پالیسی کو لمحہ بہ لمحہ نافذ نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے بتدریج نافذ کیا جانا چا ہیے انہوں نے مزید کہا کہ جو پالیسی 1.5 لاکھ طلبائ کو سپیکٹرم سے باہر کرتی ہے وہ پالیسی بھی نہیں ہے اور انہوں نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں ایچ ای سی اور اے آئی او یو کے ساتھ کوآرڈینیشن کرے اور 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرے چیئر نے ایچ ای سی کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ رپورٹ پیش کریں کہ اے آئی او یو کو فنڈز کیوں فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں انہوں نے وائس چانسلر سے آئندہ اجلاس میں بی اے پروگرام کی فیس میں 9000 روپے سے 19000 روپے تک کے اضافے کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی اجلاس کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ ایچ ای سی کا فرض ہے کہ وہ جعلی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ملک بھر میں تعلیمی معیار کو یقینی بنائے۔ انہوں نے ایچ ای سی کو اس حوالے سے کمیٹی کے سامنے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں