حکومت اور بیوروکریسی اساتذہ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن
(کوئٹہ پ ر) وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سر پرست اعلی رئیس در محمد لانگو سے مختلف اضلاع کے اساتذہ اور عہدیداروں نے ملاقات کی اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے مسائل کا واحد حل صرف اور صرف ڈبلیو ٹی اے بی سے ہی وابسطہ ہے ہم نے ہر اول دستہ اساتذہ کے مسائل کے حل کے لئے بھر پور جدوجہد کی ہے اصل حقائق اور دشواریوں سے ملازمین کو درست طریقے سے آگاہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی اور حکومت اساتذہ کے مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس واضح مثال یہ ہے کہ اساتذہ کی اپ گریڈیشن کو تاخیر کا شکار کر دیا گیا ہے کوئی بھی ملازم ہو پرموشن اس کا حق ہے اور دوسرے محکموں میں پرموشن مل رہا ہے لیکن واحد محکمہ تعلیم ہے جہاں پر ٹیچر کا کوئی پرموشن نہیں اساتذہ 30 سال سروس ہونے کے با وجود پرموشن سے محروم ہیں 2006 سے منظور شدہ پچاس فیصد پرموشن کوٹہ کو بیوروکریسی اور افسر شاہی نے بگاڑ کے رکھ دیا سابقہ سروس رولز جو اساتذہ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئے تھے اس پر عملدرآمد نا ہونے پر ہم عدالت گئے وہاں سے بھی پچاس فیصد پرموشن کوٹہ پر فیصلہ آیا اساتذہ کے حق میں ہوا اس کے با وجود بیوروکریسی اور افسر شاہی نے سروس رولز میں ترمیم کر کے اساتذہ کرام کو پرموشن سے محروم کر دیا اور نیا طریقہ منظور کیا گیا اسی طرح اپ گریڈیشن جو کہ انتہائی اہم اور ضروری ہے کیوں کہ اس وقت پورے پاکستان میں ٹیچرز کی پوسٹ اپ گریڈ کر دی گئی ہے مگر بلوچستان میں اساتذہ کا گریڈ 9 برقرار رکھا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ جب تک اساتذہ کے مسائل حل نہیں ہوتے حکومت اور محکمہ تعلیم سنجیدگی سے ٹیچرز کے لئے دوسرے صوبوں کی طرح مراعات کا اعلان نہیں کرتی اس وقت تک ٹیچرز ذہنی کوفت کا شکار رہیں گےاگر ٹیچرز معاشی پریشانیوں سے نجات حاصل نہیں کرتےاس وقت تک تعلیم میں بہتری خواب ہی رہے گی آج ایک سپاہی بھی ٹیچر سے ذیادہ تنخواہ لے رہا ہے انہوں نے اپنے ایک پیغام میں بلوچستان بھر کے ٹیچرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اساتذہ جوق در جوق وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کر کے ایک دفعہ ہمارے ہاتھ مضبوط کریں ہم بلوچستان کی تاریخ میں ایسا انوکھا احتجاج کریں گے کہ حکومت کو ہمارے جائز مطالبات ہر صورت ماننے ہوں گے انشائ اللہ وہ وقت دور نہیں ہے ہماری تحریک ہماری سوچ ضرور کامیاب ہو گی۔


