پشتونخوا میپ میں انتشار جاری، جنرل سیکٹری ساتھیوں سمیت فارغ
کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کے دستخط سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سب سے اہم ادارے قومی کانگرس منعقدہ کوئٹہ 29,28جنوری 2022کے فیصلوں (سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ، قومی جرگہ بنو کا انعقاد ، پارٹی کے قومی کانگرہ کی تیاری کیلئے ابتدائی ، علاقائی اور ضلعی کانفرنسوں کو منعقد کرنے) کی خلاف ورزی اور پارٹی آئین میں دیئے گئے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے اور اس پر بضد رہنے کی بنا پر مرکزی جنرل سیکرٹری مختار خان یوسفزئی،پارٹی خیبر پشتونخوا کے صوبائی صدر خورشید علی خان ، سینئر نائب صدر حیدر خان مومند، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری عمر علی یوسفزئی ، ڈپٹی سیکرٹری اشرف علی ھوتی اور ڈپٹی سیکرٹری احمد شاہ خان کو پارٹی سے خارج کیا جاتا ہے اور مذکورہافرادکا آج مورخہ 19نومبر 2022کے بعد پشتونخواملی عوامی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے خاص مصاحبین جو صوبہ خیبرپشتونخوا کی پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ذمہ داروں میں شامل تھے مختلف اضلاع میں جاکے اپنی پارٹی کے ذمہ داروں میں غلط فہمیاں پیدا کیں بلکہ کہیں تو علیحدہ پارٹی بنانے یا اپنی پارٹی کے اندر تخریب کاری کے عمل کو مسلسل جاری رکھا جس کی گواہی پارٹی کے بہت سے سینئر ممبران دیتے ہیں ۔ پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تنظیم نو کیلئے جناب جنرل سیکرٹری اور جناب سینئر ڈپٹی چیئرمین پر مشتمل دو رکنی کمیٹی میں طے شدہ PSOکے فعالین کی ایک مشترکہ فہرست جو پشتونخوا ایس او کی تنظیم نو کیلئے آرگنائزنگ کمیٹی کہلائی جو سارے ملک میں PSOکو از سر نو تشکیل کرنے کی ذمہ دار ٹھہری یاد رہے کہ 2004کے بعد یہ PSOکی تنظیم بنانے کی پہلی کمیٹی تھی نہ جانے کیا ہوا کہ جنرل سیکرٹری نے کچھ عرصہ بعد ایک اور فہرست اپنے ہم کار سینئر ڈپٹی چیئرمین کو اعتماد میں لیئے بغیر Facebook(سوشل میڈیا) پر جاری کی اور حکم دیا کہ یہ فہرست بھی اس فہرست کا حصہ بنایا جائے جو پہلے جاری ہوئی تھی اور یوں دانستہ یا نادانستہ PSOکی تقسیم کا باعث ہوئے ۔ یاد رہے کہ قومی جرگے نے Facebook(سوشل میڈیا ) پر مکمل پابندی لگائی تھی اس کے بعد جناب جنرل سیکرٹری صاحب مسلسل Facebookکے ذریعے احکامات اور بیانات جاری کرنے میں لگ گئے وہ بھی ایسے وقت میں کہ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے انسان کا کسی دوسرے انسان سے رابطہ ایک منٹ میں ہوسکتا ہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ قومی کانگرس میں مرکزی کمیٹی تحلیل ہوئی تھی اب مرکزی کمیٹی کا وجود سوالیہ نشان ہے اور یہ بھی کہ مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا طریقہ کار پارٹی آئین میں طے ہے Facebookکے ذریعے پارٹی چیئرمین سے مرکزی کمیٹی کا اجلاس کا مطالبہ کرنا اور پھر بہت جلد اپنے پارٹی کے آئینی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے فیس بک کے ذریعے مرکزی کمیٹی وہ بھی پتہ نہیں کونسی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان کردیااور ان لوگوں کو جنہیں پارٹی اپنی غیرآئینی اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزیوں کی بنیادپر پارٹی سے نکال چکی ہے ان کے ہمراہ سوشل میڈیا پر کمپین میں اپنے ساتھ شامل کیئے ہیں جو کہ جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ان کی ایک اور واضح خلاف ورزی ہے ۔


