مفاد عامہ کے مسائل پر عوام بلا خوف خطر عدالت سے رجوع کریں، چیف جسٹس
بسیمہ(نامہ نگار) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے بسیمہ میں جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے عمارتوں میں چند احساسات اور روحانیت ہوتی ہیں جو جج کو صیح فیصلے دینے پر مجبور کرتے ہیں جب جج کسی زندگی اور موت کے فیصلے کے لیے بیٹھتا ہیں تو خدا اسکے مدد کرتا ہیں کوئی کسی کو جان بوجھ کر موت کے سزا نہیں دے سکتی میں اور میرے ٹیم دیگر جسٹس صاحباں وزیر اعلیٰ یا گورنر بن کر حکومت کے فیصلے نہیں کرسکتے آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 ہمیں اجازت دیتا ہیں کہ ہم مفاد عامہ کے لیے آخری حد تک جاسکتے ہیں کئے پہ سیلاب کے تباہ کاری کا مسلہ ہو کالج بند ہو ہسپتالوں میں کام ٹھیک نہیں چل رہا ہو کئے پہ پانی نیچے جارہا ہو ڈیم کی ضرورت ہو سکولز بند ہو انتظامیہ سے کسی کو پریشانی ہو تو ایک سادہ کاغذ پر ایک اردو کے درخواست لکھ کر آپ عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے ہم اس درخواست کو آئینی بنا کر آئین اور قانون کے تحت کاروائی کریں گے لوگ کہتے ہیں کہ عدالت سرکٹ بینچیز کے قیام میں کوتاہی کرتا ہیں ہم نے تربت اور سبی کے سرکٹ بینچیز فحال کردی ہیں اب ویڈیو لنک کے زریعے ججز کیس سنتے ہیں وکلاء کے لیے بھی ہم نے آسانی بنادی ہیں جو سرکٹ بینچیز میں بیٹھ کر اپنے کیسز چلا رہے ہیں خضدار اور لورالائی کے ڈی سیز کو خط لکھ کر سرکٹ بینچیز کے لیے جگہ دینے کی درخواست کی ہیں خدارا ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے جس سے ادارے تباہ ہوتے ہیں بلوچستان کے مسائل اداروں میں کوارڈینیشن نہ ہونے سے بڑھ رہے ہیں لیک آف کوارڈینیشن کے وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں جسے ہم بیڈ گورننس کہتے ہیں ادارے فائلیں وقت پر ایک دوسرے کو فارورڈ نہیں کرتے ہیں جس سے ہر کام سست روی کا شکار ہوتا ہیں اس سے بلوچستان مزید پسماندگی کے جانب جارہا ہیں سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جراتمندانہ فیصلوں کے باعث ہر ضلعے میں انصاف عوام کو گھر کے دہلیز پر مل رہا ہیں بلوچستان کے سارے کمپلیکس انہی کے محنت کا نتیجہ ہیں ان سے پہلے جج کو اپنے ڈیوٹی پر جانے میں شدید پریشانی کا سامنا رہتا تھا عدالتیں تحصیلدار اور پٹواریوں کے دفاتر میں لگتے تھے ججز کے پاس اپنا کوئی گاڑی نہیں رہتا تھا رہنے کے لیے انکے پاس گھر بھی نہیں ہوتا تھا لیکن جب جسٹس افتخار چوہدری نے جو قانون بنایا تو اب ہر ضلعے میں عدالیہ کے عالیشان عمارتیں ہیں ججوں کے پاس سرکاری گاڑیاں ہیں رہنے کے لیے گھر بھی ہیں عوام انصاف کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مسائل کے حل کے لیے بھی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں ججز آرٹیکل 199 کے تحت اس پر کاروائی بھی کرتے ہیں۔


