محکمہ سماجی بہبود میں گریڈ17کے افسر کیلئے گریڈ19کی مراعات کے مزے

کوئٹہ (پ ر)محکمہ سماجی بہبود میں کرپٹ جونیئر ترین گریڈ 17 کے افسر کی ایک سے زائد گریڈ 18 اور گریڈ 19 کی آسامیوں کامزے لوٹ رہا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود حکومتی سطح پر وہ واحد ادارہ ہے جہاں پر گددں نے اپنا بسیرا بنا کرادارے کو بڑی بے دردی سے نوچ رہاہے محکمہ سماجی بہبود میں میں رولز آف بزنس اور دیگر قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھ کر قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔محکمہ سماجی بہبود کی ایسوسی ایشن کے صدر جاوید بلوچ نے کہا کہ محکمہ کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس وقت محکمہ میں گریڈ 17 کا جونیئر ترین افسر (انوکھا لاڈلا) کو بیک وقت گریڈ 18 اور گریڈ 19 کے اضافی چارج سے بھی نوازا گیا ہے ستم بالا ستم خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر جو کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہے ان کی تعیناتی سبی ہوئی سبی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے لئے کواٹر کی سہولت موجود ہونے کے باوجود کواٹر الاٹ نہیں کیا گیا اور جس لاڈلے کی تعیناتی کوئٹہ میں ہے اس کے عیش وآرام کے لیے کواٹر مختص گیا ہے، انوکھا لاڈلا جب جب سبی آئے گا صرف اسی کے استعمال میں ہو گا جبکہ اس کواٹر پر خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر کا حق ہے رہائشی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر شدید ذہنی کرب اور پریشانی سے دوچار ہے ہے لیکن نہ تو سیکرٹری سماجی بہبود اور نہ ہی ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود ان غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیتے ہیں جبکہ دوسری طرف محکمے کی ذیلی ادارے بدنظمی کا شکار ہیں سیاسی بنیاد پر بھرتی ہونے والے اہلکار مکمل طور پر غیر حاضر ہیں، بیگر ہومز میں پچاس کے قریب آسامیوں پر تعیناتی عمل میں لائی گئی گی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوائے چند ایک کے کوئی اہلکار اپنی ڈیوٹی نہیں دیتا اسی طرح محکمہ سماجی بہبود کے میڈیکل پروجیکٹس میں فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی بہبود کا عمل مکمل طور پر التوا کا شکار ہے بلوچستان آفیسر ایسوسی ایشن کے صدر جاوید بلوچ نے کہا ہے کہ محکمہ سماجی بہبود غریب اور نادار افراد کے فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے لیکن اس چار سال میں میں نا صرف ٹھیکیداروں کی کمیشن حاصل کرتے رہے ہیں بلکہ محکمہ میں غیر قانونی کام عروج پر ہوتے رہے ہیں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان قدوس بزنجو اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ سماجی بہبود میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور کرپشن کے خلاف تحقیقات کرائی جائے اور بدعنوانیوں میں ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں