نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعہ، بھارت کے لیے نیا درد سر

بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کے ساتھ ایک عرصے سے جاری سرحدی تنازعات کی فہرست میں نیپال کے شامل ہوجانے سے نئی دہلی کی سردردی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
بھارت کے حالیہ اقدام سے نیپالی عوام کی ناراضی دور کرنے کے لیے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو ملکی پارلیمان میں یہ وضاحت دینی پڑی کہ ‘نیپال اپنی زمین کا ایک انچ حصہ بھی نہیں چھوڑے گا۔‘
نیپال نے گزشتہ ہفتے بھارت کے خلاف اس وقت سخت ناراضی کا اظہار کیا جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو حقیقی کنٹرول لائن پر واقع لیپو لیکھ کے قریب سے ہو کر گزرنے والی اتراکھنڈ۔ کیلاش مانسرور سڑک کا افتتاح کیا۔
لیپو لیکھ وہ جگہ ہے جہاں بھارت، نیپال اور چین کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ہندو اساطیر کے مطابق کیلاش مانسرور بھگوان شیوا کی جائے قیام ہے اور ہندو عقیدت مند ہر سال وہاں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔ اس سڑک کی تعمیر سے بھارتی یاتریوں کی آمد و رفت میں کافی سہولت ہوگی۔ لیکن سڑک کے افتتاح کے بعد نیپال میں بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے بعد نیپالی وزیر اعظم کو کل جماعتی اجلاس طلب کرکے وضاحت کرنی پڑی۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے بھی کٹھمنڈو میں بھارت کے سفیر کو اپنے دفتر میں طلب کر کے سخت احتجاج کیا اور کہا ”بھارت نیپال کے علاقے کے اندر اس طرح کی کسی بھی سرگرمی سے گریز کرے۔”
دوسری طرف بھارت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کسی بھی نیپالی علاقے میں مداخلت نہیں کی ہے اور یہ سڑک کیلاش مانسرور کے روایتی یاترا کے روٹ پر ہی تعمیر کی گئی ہے۔
ابھی یہ برہمی کم نہیں ہوئی تھی کہ 15مئی کو بھارت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے یہ بیان دیا کہ بھارت کی طرف سے مذکورہ سڑک کی تعمیر میں انہیں کچھ متنازع نہیں دکھائی دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ’اس بات کا کافی امکان ہے کہ نیپال ایسا کسی کے اشارے پر کررہا ہو۔‘
جنرل نروانے نے گو کہ کسی کا نام نہیں لیا تاہم اس کا مطلب یہ اخذ کیا گیا کہ وہ نیپال پر چین کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔ جنرل نروانے کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب بھارت اور چین کی فوجیں لداخ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئی تھیں اور دونوں افواج کے درمیان ہاتھا پائی کی خبریں بھی موصول ہوئی تھیں۔
نیپال اور بھارت کے درمیان نہایت قریبی اور تاریخی رشتے رہے ہیں لیکن مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں کے درمیان مسلسل دوری دکھائی دے رہی ہے۔ نیپال کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے سرحدی تنازع کو بھارت کے سامنے کئی مرتبہ اٹھایا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں بھی بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد شائع کیے جانے والے نقشے پر نیپال نے سخت اعتراض کیا تھا۔ اس نقشے میں کالاپانی نامی علاقے کو بھارتی ریاست اترا کھنڈ کا حصہ دکھایا گیا ہے جب کہ نیپال کا دعوی ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے جو بھارت، نیپال اور چین کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعد نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ نیپال کی حکومت نے بھارت کے اقدام کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کرے گا۔


