ریکوڈک کیس پر عجلت میں فیصلہ اور مجھے بحث کی اجازت نہ دینا شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر ( ر) امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بنچ کی جانب سے ریکوڈک جیسے اہم کیس کی عجلت میں رائے محفوظ کرنا اس کے برعکس اپنے کل کھلی عدالت میں مجھے بدھ کو بحث کرنے کی اجازت دینے کے باوجود اس حق سے محروم رکھنا صوبے کے عوام کی آواز کو سلب اور شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے ۔ بد ھ کو اپنے جا ری کر دہ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کی طرف سے تحریری بحث داخل کرنے کا عمومی حکم بلوچستان بار کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے میں بصد شکریہ معذرت و معذوری ظاہر کرتے ہوئے اعلان کرتا ہوں آج یعنی 30 نومبر 2022 کو دن 12 بجے اپنے معروضات سپریم کورٹ بلڈنگ اسلام آباد کی دہلیز پر معروضات پریس کے سامنے رکھ کر عوام کو بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کے محرکات و مضمرات اور اس کے صوبے پر منفی اثرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کروں گا۔


