ٹرالر مافیا کے باعث سمندری حیات ناپید، ماہی گیر بیروزگار ہوتے جارہے ہیں، نیشنل پارٹی
حب (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء بی ایس او کے سابق چیئرمین کامریڈ عمران بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بحر بلوچ پر سمندری حیات کی نسل کشی عروج پر ہے، بلوچستان کا سمندری حدود 12 ناٹیکل میل ہے حب سے لیکر جیونی تک ٹرالرز مافیاں گجھہ اور وائرنیٹ جیسے باریک جالوں کا استعمال کرکے 12 ناٹیکل میل کے اندر آکر سمندر میں جھاڑو پھیر رہے ہیں اور سطح کو ہل کی طرح کھود رہے ہیں اس ممنوعہ جالوں سے سمندر کی زیر سطح جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں چھوٹی مچھلیاں ان کے انڈے،کیڑے مکوڑے،آبی پودے اور کورال سب اس جال میں آجاتے ہیں ٹرالر مافیا کی یلغار سے سمندری حیات ناپید ہوتی جارہی ہے کہی ایسے نایاب مچھلیاں ہیں جو ملنے سے رہے یوں لگتا ہے جو مچھلیاں آج ہم دیکھ رہے ہیں ٹرالرز مافیاں کی مہربانی سے ہمارے بچے ان مچھلیوں کے بارے سن تو لیں گے لیکن دیکھ نہیں سکیں گیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہیں 770کلو میٹر بحر بلوچ کو ٹرالرز مافیاں کے رحم کرم پر چھوڑ کر چھوٹے غریب ماہی گیروں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا گیا انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈام بندر(وندر)پر بڑے پیمانے اور روزانہ کی بنیاد پر وائرنیٹ مافیاں کے سرغنہ پرویز دودا اپنے ہمنوا کے ہمراہ بلاخوف و ججک غیر قانونی ممنوعہ جالوں سے ٹرالنگ کررہا ہے جب اس کے خلاف مقامی ماہی گیروں نے آواز بلند کی تو انہیں ڈرا دھمکایا گیا شومئی قسمت وائرنیٹ مافیاں کا یہ سرغنہ پچلھے ادوار میں لسبیلہ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کا صدر بھی رہ چکا ہے اسپورٹس مینز اس سے لاعلم تھے کہ یہی شخص ان کے بیروزگاری، بھوک و افلاس کا ذمہ دار ہے اور ان کا معاشی قتل عام کررہا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے جس بے رحمی سے سمندری حیات کی نسل کشی کی جارہی ہے اس میں محکمہ فشریز،صوبائی حکومت براہ راست ملوث ہیں ان کی معاون اور مدد سے ٹرالرز مافیاں چھوٹے اور غریب ماہی گیروں کے بچوں کے منہ سے نوالہ چین رہے ہیں بلوچ وسائل کے ساتھ ساتھ بلوچ ساحل لوٹنے کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک لگایا جارہا ہے جس کے نتائج بھیانک ہونگے انہوں نے کہا ماہی گیروں کو بھوک و افلاس سے نجات دلانے کے لئے انہیں باعزت روزگار کرنے دیا جائے فشریز مافیاں اور ٹرالرز مافیاں کے خلاف کاروائی کرکے انہیں نشان عبرت بنایا جائے ٹرالرز کو 12 ناٹیکل میل سے باہر دکھیلا جائے تاکہ نان شبینہ کے محتاج ماہی گیروں کو روٹی و روزی میسر ہو۔


