بلوچستان کے وسائل پر قبضہ آمرانہ طرز حکمرانی اور بلوچ قوم کو زیر کرنا ہے، بی این پی
نوشکی (انتخاب نیوز) بی این پی نوشکی کے زیر اہتمام ریکو ڈک وسائل کی لوٹ مار اور اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیخلاف مسجد روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے بی این پی کے ضلعی صدر میر حاجی میر بہادر خان مینگل، سینئرنائب صدر صادق جمالدینی، بی ایس او کے سی سی ممبر آغا الیاس شاہ بی این پی نوشکی کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری میر صاحب خان مینگل اور عتیق بلوچ نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا رویہ ازل سے اکائیوں خصوصاً بلوچستان کے ساتھ ظالمانہ رہا ہے جس بے دردی سے بلوچستان کے وسائل کو لوٹ کر بلوچ عوام کا استحصال کا بازار گرم رکھا جارہا ہے ریکو ڈک کا معاہدہ نیا نہیں اس سے پہلے سوئی، چمالنگ، دلبند، سیندک، گوادر سمیت دیگر وسائل پر قبضہ کر کے استحصالی سوچ کے تحت بلوچستان کے عوام کو پسماندہ رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے آمرانہ طرز حکمرانی کے تحت غیر سیاسی اور غیر جمہوری انداز کو اپناتے ہوئے بلوچ قوم کو زیر کرنے کوشش کی ہے، ریکوڈک کا سودا اسی تسلسل کی کڑی ہے۔ بی این پی اس کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ اس عمل کیخلاف ہر جمہوری اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کریگی۔ مقررین نے کہا کہ ریاست کے وسائل پر ہمیشہ قبضہ رہا ہے، بڑی کٹھن اور طویل جدو جہد کے بعد اٹھارویں ترمیم کے تحت معمولی سے اختیارات صوبوں کو لفاظی طور پر منتقل کیے گئے مگر وفاق کو ہضم نہیں ہورہا تھا، آج موقع ملتے ہی اسے رول بیک کرنے کا سلسلہ شروع کیا، جس سے وفاق اور اکائیوں کے درمیان کشمکش کی سیاست ایک دفعہ پھر شدت اختیار کرسکتی ہے۔


