نور مقدم قتل کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مجرم کی امریکی شہریت کے باعث سزائے موت نہ دینے کی دلیل مسترد کر دی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر اور دیگر کی سزاؤں کیخلاف اپیلوں، مدعی مقدمہ کی جانب سے بعض ملزمان کی بریت اور کم سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹ عامر فاروق نے ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کے باعث سزائے موت نہ دینے کی دلیل کو مسترد کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نور مقدم قتل کیس کے مجرمان اور مدعی مقدمہ کی اپیلوں کو یکجا کرکے سماعت کی۔ عدالت نے کہا یہ بات تو طے ہے کہ وقوعہ پر سب سے پہلے تھیراپی ورکس والے پہنچے، پراسیکیوشن کے گواہ رکھنے کی بجائے مدعی نے اتنے زیادہ ملزم کیوں رکھ دیئے؟۔ مدعی کے وکیل بابر حیات نے کہا کہ تھیراپی ورکس والوں کو اس لئے ملزم بنایا کیونکہ انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ عدالت نے کہا اگر آپ تھیراپی ورکس کو گواہ بناتے تو شاید وہ پراسیکیوشن کے ساتھ تعاون کرتے۔ مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل عثمان کھوسہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو متنازع بنانے کی کوشش کی اور ڈی وی آر فوٹیج قبضے میں لیکر پیش کرنے کے طریقہ پر اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا صرف سی سی ٹی وی کی بنیاد پر سزا دے سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈی وی آر میں جو 2 لوگ نظر آرہے ہیں وہ مقتولہ اور مجرم ہیں، کسی نے یہ نہیں کہا کہ باہر سے کوئی اور بندا آیا تھا۔وکیل نے کہا ظاہر جعفر امریکی ریاست نیو جرسی کا شہری ہے، جہاں سزائے موت کا تصور نہیں، عدالت اس نکتے کو بھی مدنظر رکھے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا ہمارا ملک آزاد اور ہمارا اپنا قانون ہے، ہم نے اس پر عمل کرنا ہے۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کو 7 دن میں اضافی تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔


