عالمی دباؤ، افغان حکومت کا خواتین کی یونیورسٹیاں دوبارہ کھولنے پر غور

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ افغان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ نے قائم مقام وزیر دفاع سے لڑکیوں کیلئے یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو دوبارہ کھولنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ذرائع نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کے بعد افغان حکومت نے مذمت کے طوفان کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ منگل 20 دسمبر کو افغان حکام نے افغانستان میں ویمن یونیورسٹیز کی تعلیم پر اگلے نوٹس تک پابندی لگا دی تھی۔ لڑکیوں کو صرف پرائمری سطح تک تعلیم کی اجازت دی گئی تھی۔ لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر اگلے نوٹس تک پابندی لگا دی، یعنی لڑکیاں اور خواتین صرف پرائمری سطح تک ہی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ پابندی کے اعلان کے اگلے روز بدھ 21 دسمبر کو مسلح محافظوں نے سینکڑوں نوجوان خواتین کو افغان یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے پر افغان حکام کو بین الاقوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے افغان حکام کے ہاتھوں افغان خواتین کے جبر کی شدید مذمت کی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اپنی تشویشکا اظہار کرتے ہوئے افغان حکام پر زور دیا کہ ہر سطح کی تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان میں لڑکیوں کو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کرنے کے اعلان پر شدید عدم اطمینان کا اعلان کیا تھا۔ بلنکن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغان خواتین بہتر کی مستحق ہیں۔ افغانستان بہتر کا مستحق ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے افغان حکام کی قبولیت کی جستجو کو بلاشبہ ایک دھچکا لگا ہے۔ افغانستان میں ہزاروں خواتین کو یونیورسٹیوں میں داخلہ کا امتحان دیا تھا اور اس کو تین ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ پابندی کا فیصلہ سامنے آگیا جس کے باعث خواتین شدید الجھن کا شکار ہو گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں