ایران میں حکومتی پابندیوں کا دائرہ، احتجاجی مظاہروں کے دوران 39 صحافیوں کی گرفتاری کا انکشاف
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے 16 ستمبر سے 30 نومبر کے درمیان کم از کم 39 صحافیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تنظیم نے مزید کہا کہ16ستمبر کو خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایران میں حکومتی پابندیوں کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔سرکاری لائسنس یافتہ میڈیا آؤٹ لیٹس میں کام کرنے والے صحافیوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی کوشش کی گئی۔16ستمبر کو پولیس حراست میں خاتون مہسا امینی کی موت پر شروع ہونے والی احتجاجی مظاہروں کو پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔فارسی بولنے والے ایک امریکی ریڈیو سٹیشن نے گزشتہ نومبر میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اسے 110 سے زائد ایرانی مصنفین اور صحافیوں کی فہرست موصول ہوئی ہے جنہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر حالیہ مظاہروں کے دوران ایرانی سکیورٹی حکام کی جانب سے گرفتار کیا گیا، دھمکایا گیا یا دیگرطریقوں سے نقصان پہنچایا گیا۔اس فہرست میں 116 نام شامل ہیں اور ان میں سے کچھ کی قسمت کا علم نہیں۔ اس میں فنکارانہ شاخوں بالخصوص تھیٹر کے کچھ فنکاروں یا طالب علموں کے نام بھی شامل ہیں۔


