صدی کا طوفان ابھی تھما نہیں، امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی، مزید برفباری کا انتباہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں شدید سرد موسم اور برف باری سے نظام زندگی منجمد ہوکر رہ گیا، مختلف حادثات میں اموات کی تعداد بڑھ کر 55 ہوگئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق بدترین طوفان سے نیویارک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، شہر بفیلو میں 27 افراد ہلاک ہوئے۔امریکی میڈیا کے مطابق مغربی نیویارک کے کچھ حصوں میں 43 انچ سے زیادہ برف پڑی ہے، برفانی طوفان کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔انٹرنیشنل ایئرپورٹ بدھ تک کیلئے بند رہیں گے جبکہ امریکا بھر میں تین ہزار پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ان کی دعائیں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں، انہوں نے متاثرہ ریاستوں کو وفاقی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ نیویارک کی ریاست کے گورنر نے خبردار کیا ہے کہ ”صدی کا طوفان“ابھی تھما نہیں جب کہ امریکی ریاست نیویارک کی ایری کاؤنٹی میں حکام نے بتایا کہ کرسمس کی چھٹیوں کے موقع پر مغربی نیویارک کو مفلوج کرنے والے طاقتور برفانی طوفان کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 25 ہوگئی ہے۔ بوفلو میں امدادی کارکن راستے صاف کرنے اور متاثرہ سہولیات کو بحال کرنے کے لیے دن رات کوشش کررہے ہیں۔ایری کاؤنٹی کے شیرف مارک پولون کارس نے پیر کو ایک بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ طوفان سے ہونے والی اموات کی تعداد میں راتوں رات 12 کا اضافہ ہوا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی کاروں میں برف میں دبے ہوئے پائے گئے یا وہ لوگ جنہیں برف ہٹانے کی کوششوں کے دوران دل کی تکلیف ہوئی تھی۔پولونکرز نے مزید کہا کہ مزید اموات کی اطلاع ملی ہے، لیکن ریاستی طبی معائنہ کار اب بھی یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کا براہ راست تعلق موسم سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں