الیکشن کمیشن بلوچستان کے زیر اہتمام خواتین، خواجہ سرا اور معذور افراد کی سہولیت کیلئے جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن ونگ کا قیام
کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی الیکشن کمیشن بلوچستان کے زیر اہتمام جینڈر اینڈ ڈس ابیلیٹی ورکنگ گروپ کی تقریب کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ جسکی صدارت جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر(ایڈمن) طاہر منصور خان نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان خواتین ،ٹرانس جینڈر اور معذور افراد کے شناختی کارڈ بنانے کے عمل، ان کے انتخابی فہرستوں میں اندراج اور انتخابی عمل میں بھر پور شرکت جیسے مسائل پر کام کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی نادرا اور ڈیولپمنٹ پارٹنرز کیساتھ مل کر کام کرتا رہیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے خواتین، ٹرانس جینڈر اور معذور افراد کو درپیش مسائل جیسے شناختی کارڈ کا اجرا، انتخابی فہرستوں میں ان کی رجسٹریشن جیسے مسائل کے حل کیلئے جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن ونگ کا قیام عمل میں لایا ہے اور مستقبل میں بھی اس عزم کا ارادہ کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے قائم پولنگ اسٹیشنوں میں معذور افراد کی سہولت کے لئے ریمپ بنائے جائیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جینڈر اینڈ سوشل انکلوڑن محمد ارسلان نے کہا کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قائم کردہ جینڈر ونگ نے خواتین،ٹرانس جینڈر اور معذور افراد کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الیکشنز ایکٹ 2017 کی چند اہم سیکشنز کے اوپر بھی روشنی ڈالی جن میں سیکشن 9 کی خاص اہمیت حاصل ہے۔ خواتین کی نمائندہ مس صفینہ خان اور مس عالیہ ناز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو شناختی کارڈ کے اجرا میں بہت مشکلات درپیش ہوتی ہے اور وہ یہ امید کرتی ہیں کہ نادرا بھی خواتین کے شناختی کارڈ کے اجراہ میں زیادہ آسانی پیدا کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کے شناختی کارڈ بن سکیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانس جینڈرز کے نمائندہ ندیم اکبر نے کمیونٹی کی جانب سے چند نکات کو اجاگر کیا جن میں الیکشن کے دوران ووٹ کاسٹ کرتے وقت مردوں اور خواتین کی طرح ان کیلئے الگ سے پولنگ اسٹیشن کیا جائے تاکہ ووٹ کاسٹ کرنے میں کوئی مشکلات نہ ہوں۔ اسی طرح شناختی کارڈ بناتے وقت ان کی جنس سے متعلق راز رکھا جائے۔تقریب سے یوتھ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عطا الحق نے انتخابی نظام میں خواتین کی موثر شرکت کو بڑھانا، انتخابی عمل میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو فروغ دینا، انتخابی عمل میں خواتین کے لیے جگہیں پیدا کرنا، خواتین کے مسائل کی شناخت اور ان کے CNIC رجسٹریشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور چیلنجوں کے حل اور سہولت اور معاونت اور آئندہ انتخابات میں خواتین ووٹروں کی تعداد میں اضافے کے حل اور آگے بڑھنے کا طریقہ پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے آخر میں تمام افراد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کی جینڈر اینڈ ڈس ابیلیٹی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کی۔


