پاکستان خلیجی ممالک کیلئے امریکی سیکیورٹی کا متبادل بن سکتا ہے،بھارتی دفاعی تجزیہ کار

سینئر بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیاءمیں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھا ہے جس کے باعث وہ خلیجی ممالک کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پراوین ساہنی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں خطے کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ مغربی ایشیاءمیں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہو گا۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو خلیجی ممالک کے لیے امریکی سیکیورٹی کا متبادل بن سکتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ خطے میں امریکی فریم ورک کو تبدیل کرنے کے خواہاں ایران کے لیے بھی پاکستان ایک مناسب انتخاب ہے۔پراوین ساہنی کی یہ رائے ایسے وقت میں سامنے ا?ئی ہے جب پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ فوجی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار کی اس رائے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔کچھ بھارتی سوشل میڈیا صارفین پراوین ساہنی کی رائے سے اتفاق کرتے نظر آ رہے ہیں اور دیگر یہ سوال کر رہے ہیں کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت خطے میں طاقت کی اس تبدیلی کو کب تسلیم کرے گی؟کچھ بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی دفاعی تجزیہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں غدار قرار دے دیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ٹام ہاک میزائل اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر آپریشن ایپک فیوری کے بعد نمایاں حد تک کم ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر کو 2031 تک اور تھاڈ میزائلوں کو 2029 تک بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ایک اور ذریعے نے کہا کہ جب وزیر دفاع صدر یا کانگریس کو بریفنگ دیتے ہیں تو انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں کیونکہ ان کے قریبی معاونین خود کو تنقید سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا وسیع جنگ کی تیاری کر رہا ہے، مگر دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے کے ہتھیاروں کی کمی اس میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ان کے بقول ہمارے پاس اتنا اسلحہ نہیں کہ ہم محفوظ انداز میں کارروائیاں جاری رکھ سکیں، اور میرے خیال میں وائٹ ہاﺅس اس سے پوری طرح آگاہ نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں