بلوچستان میں نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، سابق وزیراعلیٰ ثبوت پیش کریں، بشریٰ رند

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما پارلیمانی سیکرٹری محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی بشریٰ رند نے اپنے ایک بیان میں صوبے میں سرکاری نوکریاں بکنے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے خلاف سازش قرار دیا ہے انہوں نے چیلنج کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعلیٰ کے پاس نوکریاں بیچے جانے کا کو ئی ثبوت ہے تو پیش کریں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت میرٹ پر یقین رکھتے ہوئے اہلیت پر باصلاحیت نوجوانوں کی بھرتی کے عمل کو یقینی بنارہی ہے بلاجواز الزام تراشی کا مقصد باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ شکنی اور بھرتی کے عمل کو مشکوک بنانا ہے، پارلیمانی سیکرٹری نے کہا ہے کہ الزامات کا مقصد بھرتی کے عمل کو دباؤ میں لاکر مرضی کے نتائج کا حصول ہے، تاہم ایسا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے روزگار کے ذرائع کا تحفظ اور روزگار کے مواقعوں میں اضافہ کر رہی ہے روزگاری کے خاتمے کے لئے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں 800 اسا میاں تخلیق کی گئی ہیں اسی طرح دیگر محکموں میں بھی خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے، پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے 1500کنٹریکٹ اساتذہ اور سی اینڈ ڈبلیو کے 360 عارضی ملازمین کو مستقل کیا، سرحدی علاقوں میں بارڈر ٹریڈ بحال کر کے لوگوں کے روزگار کا تحفظ دیا گیا وزیراعلیٰ کا وژن اور مشن لوگوں کے گھروں کے چولہے روشن رکھنا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ الزام تراشی کرنیوالوں کو یہ برداشت نہیں کہ لوگوں کو روزگار دینے کا کریڈٹ بھی وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو ملے، انہوں نے کہا کہ جو اپنے دور حکومت میں کچھ نہ کرسکے اب وہ منفی سیاست کر کے اپنی ناکامی چھپانا چاہتے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں میرٹ پر بھرتی کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں