گوادر حق دو تحریک دھرنا، مولانا ہدیت الرحمن پر پولیس اہلکار کا قتل، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج، گرفتاری نہ ہوسکی

گوادر (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں احتجاج، جلاؤ، گھیراؤ اور انتشار پھیلانے کے الزام میں ڈپٹی کمشنر نے صحافی سمیت 15 افراد کو ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے سیکشن 3 اور 16 کے تحت حاصل اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ گوادر میں حالات معمول پر آنے لگے پر خوف اور کشیدگی کی فضا برقرار۔ گوادر میں چھے روز بعد موبائل فون سروس بحال کردی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی تک بند ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ گوادر میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہیں۔ بازار، مارکیٹیں اور بینک کھل گئے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے۔ ان کے بقول انٹرنیٹ سروس بھی ایک دو دن میں بحال کردی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر گوادر عزت نذیر بلوچ نے متعدد گرفتار افراد کو جیل بھیجے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس حکام کی سفارش پر گوادر میں نقضِ امن اور انتشار پھیلانے پر کچھ افراد کیخلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ گوادر سے پولیس ذرائع اور مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مجموعی طور پر 15 افراد کو ایک ماہ کے لیے تربت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان میں صحافی حاجی عبیداللہ، حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے بھائی، دو بھتیجے اور حق دو تحریک کے کارکن بھی شامل ہیں۔ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کیخلاف پولیس اہلکار کے قتل اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج ہیں تاہم وہ اب تک گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمان نے نامعلوم مقام سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گوادر میں حق دو تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی وجہ سے تھانے اور سرکاری عمارتوں میں جگہ کم پڑگئی ہے۔ اب انہیں تربت منتقل کیا جارہا ہے۔ حق دو تحریک کے سربراہ نے اپنے ایک اور بیان میں گوادر میں دوبارہ احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں