قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، پاکستان کی رٹ چیلنج کرنیوالوں کیساتھ سختی سے نمٹنے کا عزم

اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی سلامتی کمیٹی نے ایک بار پھر ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور تخریب کاری سے پاک کرنے کا عزم کیا ساتھ ہی انسداد تخریب کاری کے لیے مختلف فیصلوں کی منظوری بھی دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ شرکا میں وزیراعظم، تمام سروسز چیفس، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ سمیت دیگر وزرا، انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور دیگر حکام شامل تھے۔ اجلاس تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا جس میں تخریب کاری سے متعلق کارروائیوں کے حوالے سے مختلف فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال، ٹی ٹی پی کے حملوں اور مخدوش علاقوں سمیت پاک افغان سرحدی امور سے متعلق بات کی گئی۔ اجلاس میں بلوچستان اور کے پی میں پرتشدد واقعات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس کے بعد تخریب کاروں کیخلاف مزید آپریشن کرنے کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ معاشی صورتحال پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بریفنگ دی اور گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی منظوری دی گئی، معاشی پالیسیوں کے حوالے سے جلد اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اجلاس میں بات کی گئی کہ بار بار افغان حکام کی جانب سے پاکستان سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اس کا کچھ کیا جائے جس پر عسکری حکام نے شرکا کو بریفنگ دی۔ شرکا نے کہا کہ تخریب کاری کے خلاف دو ٹوک موقف اپنایا جائے، پاکستانی رٹ کو بار بار چیلنج کیا جاتا ہے ایسے عناصر کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں