سوڈانی فوج نے سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا

کارتم (مانیٹرنگ ڈیسک) سوڈانی فوج نے سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا فیصلہ کر لیاسوڈان کی خودمختاری کونسل کے چیئرمین اور فوج کے کمانڈر جنرل عبدالفتاح البرہان کا کہنا ہے کہ فوج سیاسی میدان سے دستبردار ہونے کے لیے پرعزم ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ مسلح افواج انتخابات کے ساتھ آنے والی سویلین اتھارٹی کے تابع ہوں گی۔دارالحکومت خرطوم کے دوستی کانگریس ہال میں، فوجی اور سویلین جماعتوں نے ایک بار پھر ملاقات کی تاکہ اس سیاسی معاہدے پر اپنے اختلافات کو دور کیا جا سکے جو نئے عبوری دور کا آغاز کرے گا۔فوجی اور سویلین گروہوں نے ایک طویل سیاسی بحران کے بعد بین الاقوامی فریقین کے اقدامات کے ساتھ 5 دسمبر 2022 کو سوڈان میں طے پانے والے اور فریقین کے تقریباً مکمل طور پر اتفاق کرنے والے فریم ورک معاہدے کے بعد ملک میں کسی قطعی معاہدے کی راہ ہموار کرنے والے دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خود مختار کونسل کے صدر اور فوج کے کمانڈر برحان نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ایک ایسی سول، جمہوری حکومت کے قیام کی امید رکھتے ہیں جو آزادی، امن اور انصاف کے لیے سوڈانی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے۔ ہم حقیقی معنوں میں جمہوری تبدیلی کی کامیابی کے لیے بر سرِ پیکار ہوں گے۔ ہم اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ فوج سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لے گی اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مسلح افواج انتخابات کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والی حکومت کے تابع ہو ں گی۔واضح رہے کہ طرفین کی جانب سے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے اور وزیر اعظم کا تعین کیے جانے کے بعد 2 برس جاری رہنے والے عبوری دور کا آغاز ہوگا۔حتمی معاہدہ 5 بنیادی نکات پر مشتمل ہوگا: جو کہ انصاف، سلامتی اور فوجی اصلاحات، امن معاہدے پر نظر ثانی اور جائزات، پرانی حکومت کے اثرات کو دور ہٹانا اور مشرقی سوڈان کے مسئلے پر محیط ہیں۔سوڈان میں مہنگائی کے آسمانوں سے باتیں کرنے اور فوج کی مداخلت کی وجہ سے وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کے نتیجے میں11 اپریل 2019 کو عمر البشیر کی 30 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا ، اور اس کے بعد قائم ہونے والی ملٹری سویلین مشترکہ عبوری حکومتیں گہرے اختلافات کی وجہ سے پائدار نہ بن سکی تھیں۔سوڈانی فوج نے 25 اکتوبر 2021 کو سکیورٹی اور بقا کے خطرات کے جواز میں سول حکومت پر قبضہ کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور وزیر اعظم سمیت درجنوں سیاستدانوں کو حراست میں لے لیا تھا۔علاقائی اور بین الاقوامی جماعتوں کی سرپرستی میں فوجی اور سویلین گروپوں کے درمیان طویل مذاکرات کے نتیجے میں، دونوں فریقین نے ایک سیاسی فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں