ماضی میں ژوب کو ملنے والے فنڈ مخصوص افراد کی جیبوں میں چلے جاتے تھے، صوبائی مشیر اطلاعات

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی مشیر برائے اطلاعات حکومت بلوچستان مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ماضی میں ضلع ژوب کو ملنے والے تمام فنڈز مبینہ طور پرعوام کے فلاح وبہبود پر خرچ ہونے کی بجائے مخصوص افراد کے جیبوں میں چلے جاتے ہیں ، 30سالوں سے عوام کو دھوکا دیا جاتا رہا ، ژوب شہرکھنڈرات کا منظر پیش کررہا تھا ، منتخب ہونے کے بعد لوگوں کے درمیان نفروں کو ختم کرکے انہیں نہ صرف ایک دوسرے کے قریب لایا بلکہ تمام اقوام کے علاقوں کو پہلی مرتبہ اجتماعی ترقی دی اور تمام شعبوں میں کیا ، یہی وجہ ہے کہ آج ژوب کے قبائلی معتبرین ان کے کاروان میں شامل ہورہے ہیں ۔ ان خیالات کا انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں ژوب کے قبائلی شخصیت عبدالرحمن مردازئی کی دیگر عمائدین ہمراہ مٹھا خان کے کاروان میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے قبل ژوب کے قبائلی شخصیت عبد الرحمن مردان زئی نے اپنے رفقا ، قبائلی عمائدین اور سیاسی کارکنوں کے ہمراہ مٹھاخان کاکڑ کے کاروان میں شمولیت کا اعلان کیا اورکہاکہ انہوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے اور انشاءاللہ فروری کے پہلے ہفتے میں تحصیل کاکڑ خراسان ژوب میں حاجی مٹھا خان کاکڑ کے اعزاز میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کریں گے جس میں کاکڑ خراسان کے سینکڑوں لوگ شمولیت کا اعلان کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مٹھا خان کاکڑ نے چار سالوں میں ژوب میں بلا امتیاز تمام علاقوں اور شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا ہے اس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تیس سال کے بعد اللہ تعالی نے ژوب کو ایک مخلص، ایماندار اور عوام سے محبت کرنے والا نمائندہ نصیب کیا ہے۔اس موقع پر مٹھا خان کاکڑ نے نئے شامل ہونے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے عوام کی طاقت و حمایت سے 2018کا الیکشن بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو اس وقت ضلع ژوب مختلف چیلنجز سے دوچار تھا اور 30 سال سے وہاں پر کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں ہوئے تھے ، ہر شعبہ مسائل میںجھکڑا ہوا تھا کیونکہ ژوب کو ملنے والے تمام فنڈز عوام پر لگنے کے بجائے عزیز واقارب اور چند مخصوص من پسند لوگوں کے جیبوں میں چلا گیا تھا، لوگوں کو زئی اور خیلی کے نام پر تقسیم کیا گیا تھااور ان کے درمیان نفرت پیدا کی گئی تھی۔انہوںنے کہاکہ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد ان تمام چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک حکمت عملی تیار کی۔ لوگوں کے درمیان نفرتوں کو ختم کرکے ایک دوسرے کے قریب لایا ۔ہم نے بلا امتیاز تمام اقوام کے علاقوں کو پہلی بار اجتماعی ترقی دی اور تمام شعبوں میں کام کیا۔ ژوب شہر میں پہلی بار ٹھوس بنیادوں پر سڑکوں ونالیوں کی تعمیر ، نکاسی آب ، اور دیگر منصوبوں پر کام کیا، تعلیمی اداروں اور سول ہسپتال پر خصوصی توجہ دی ۔ میرے ان چار سال میں ہم نے 17ارب روپے کی بڑی رقم ژوب پر خرچ کی یہی وجہ ہے کہ اب لوگ ان کے کاروان میںشامل ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میرے نزدیک لوگوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے تقسیم کرنا اور خیلی و زئی کی سیاست کرنا گناہ کبیرہ سے کم نہیں ہے، ژوب کی سیاسی فضا اب تبدیل ہوگئی ہے۔ژوب میں اب بھی مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ہم نے ژوب میں حقیقی و اجتماعی ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہمارے 17ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں نے ژوب میں ایک نئے شاندار دور کا آغاز کردیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں