بی این پی کی عملی جدوجہد سے گھبرا کر گھروں پر بلا جواز چھاپے اور گرفتاریاں کی جارہی ہیں، نواز بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ہیومن رائٹس و رکن بلوچستان اسمبلی میر احمد نواز بلوچ نے پارٹی کے مرکزی رہنما ء رکن صوبائی اسمبلی بابو رحیم مینگل کی کوئٹہ میں رہائش گاہ پر چھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اہلکاروں نے بلاجواز پارٹی کے سینئر رہنما کے گھر پر دھاوا بول کر قانونی و اخلاقی اور بلوچی روایات کی دانستہ پامالی کرکے بی این پی کی عملی جدوجہد سے خوفزدہ ہوکر چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرکے پارٹی کو دیوار سے لگانے کی ناکام کوششوں کا تسلسل جاری ہے تاہم ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اسطرح کے اوچھے ہتھکنڈوں اور ناروا اقدامات سے بی این پی کو اپنی نظریاتی اساس اور اصولی سیاست سے دستبردار نہیں کروایا جاسکتا، یہاں جاری ایک بیان میں میر احمد نواز بلوچ نے کہا کہ پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور پارٹی سربراہ سردار اختر جان مینگل کی مدبرانہ سیاست اور بلوچستان سمیت صوبے کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ سمیت لاپتہ افراد کی بازیابی اور وسائل پر دسترس کے حوالے سے ایک ٹھوس موقف سے پریشان ہوکر سیاسی مخالفین اور ریاستی کاسہ لیسوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں اس سے قبل بھی پارٹی کے سینئر رہنما ء میر بہادر خان مینگل کو بھی رات کی تاریکی میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انکی رہائی عمل میں آئی انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پارٹی کے سینئر رہنماء پارلیمنٹیرین بابو رحیم مینگل کے گھر پر بلاجواز چھاپہ مارکر ان کے پی اے کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں رہا کردیا گیا اگر انتظامیہ یا کسی ادارے اور پولیس کو مذکورہ پی اے کسی کیس میں مطلوب تھا تو قانونی و اخلاقی طور پر معزز رکن اسمبلی بابو رحیم مینگل سے رابطہ کرتے وہ زمہ دار پوزیشن پر فائز بابو رحیم مینگل مذکورہ پی اے کو تحقیقات کے لئے انکے حوالے کردیتے لیکن انتہائی بھونڈے انداز میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں معزز رکن بلوچستان اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا بی این پی واضح کرتی ہے کہ بلوچ معاشرے اور روایات میں ہم گھروں پر چھاپوں اور چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی کو برداشت نہیں کریں گے بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے اور یہاں پر بسنے والوں کی اپنی ایک حیثیت اور اہمیت ہے تمام قومیں قابل احترام ہیں حکومت اور ارباب اختیار کو اس طرح کے ناروا اقدامات اور گھروں پر کارروائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے سد باب کرنا چاہئے بصورت دیگر بی این پی ان کارروائیوں کے خلاف پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں