صوبائی اسمبلی چوں چوں کا مربہ ہے، خواتین پر تشدد اور گھروں پر چھاپے برداشت نہیں کریں گے، نیشنل پارٹی
گوادر (بیورو رپورٹ) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اشرف حسین نے نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں عوامی مطالبات پر ایک احتجاج گزشتہ 60 دنوں تک جاری تھا اور احتجاج میں شامل لوگوں نے وقتاً فوقتاً حکومت وقت سے مذاکرات بھی کئے لیکن حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے 26 دسمبر کو جو کچھ بھی ہوا، بحیثیت ایک سیاسی اور جمہوری جماعت کے نیشنل پارٹی اسے سیاسی آواز کو دبانے کی دانستہ کوشش سمجھتی ہے۔ سیاسی نظریہ اپنی جگہ لیکن جن مطالبات پر احتجاج کیا گیا تھا وہ مطالبات نہ صرف عوامی تھے بلکہ یہاں کے تمام سیاسی جماعتوں نے وقتاً فوقتاً ان مطالبات پر عملدرآمد کے لئے سیاسی اور جمہوری انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھا اور آج بھی ان مطالبات پر عملدرآمد کے لئے اپنی جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹرالرنگ کا خاتمہ کرنا، بارڈر کے کاروبا میں آسانیاں پید ا کرنا، شہریوں کی عزت نفس کو بحال کرنا، پانی، بجلی، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا، روزگار کے مواقع پیداکرنا غیر آئینی مطالبات نہیں لیکن صوبائی حکومت نے شروع سے ہی اس احتجاج کو مس ہینڈل کیا اور جان بوجھکر ایسی فضا قائم کی تاکہ تصادم کی راہ ہموار ہو اور جو کچھ ہوا وہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26دسمبر کے بعد جس طرح سیاسی کارکنوں پر طاقت کااستعمال کیا گیا اس کی نظیر شاید ہی ملے۔ لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا توڈ پھوڑ کی گئی یہاں تک خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیااور اْن پر شیلنگ کی گئی۔ گوادر میں غیر اعلانیہ کر فیو لگا دیاگیا اس کے بعد سیاسی کارکنوں اور شریف النفس شہریوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا اب بھی بہت سے سیاسی رہنماء اور کارکن کوئٹہ اور گوادر میں پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عملاً کوئی اپوزیشن نہیں ہے صوبائی اسمبلی چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ اپو زیشن کا کام عوام کی ترجمانی کرنا ہوتا ہے لیکن بد قسمت بلوچستان میں سب مل کر کھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس کے نتیجے میں عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش عملاً دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اور تو اور جو لوگ اپنے آ پ کو فرزند گوادر اور ساحل کی نگہبان قرار دیتے ہیں اْن کی لبوں پر تالا لگ گیا ہے اور وہ پورے اس دورانیے میں کہیں نظر نہیں آرہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ گوادر میں ہوا اس میں ان کی مرضی اور منشاء شامل تھی جو باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں کریک ڈاؤن کے بعد سدرن کمانڈ نے گوادر کا دورہ کیا لیکن بادی النظر میں وہ یہ بتانے آئے تھے کہ سیاسی اجتماع، جلسہ اور جلوسوں اور پرامن جدوجہد کہ جس کی اجازت آئین پاکستان دیتاہے اِن چیزوں کی گوادر میں گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان میں سیاسی جمہوری نظام نافذ ہے اور آئین پاکستان پر امن سیاسی احتجاج کی ضمانت دیتا ہے۔ شہریوں کواظہارِ رائے کی آ زادی کا حق حاصل ہے اور ہم اس حق کو دبانے کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں شہر میگا پروجیکٹس کی سر زمین ہے اور اس کو سی پیک کے ماتھے کا جومر بھی کہتے ہیں لیکن شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ساحل کو ٹرالر مافیا تاراج کررہی ہے، صحت اورتعلیم کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات دستیاب نہیں اور اسکولوں میں استاد موجود نہیں۔ جب شہری اپنے بنیادی حقوق کے لئے احتجاج کرتے ہیں تو اْن پر شرپسندی کالیبل لگایا جاتا ہے۔ گوادر میں اتنا کچھ ہونے کے باوجود صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں۔ غیر قانونی ٹرالرنگ شدت کے ساتھ جاری ہے اور شہریوں کے جو بنیادی مسائل ہیں ان پر توجہ نہیں دے جارہی۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیر کالونی کے نام پر ایک مخصوص گروہ اپنا کھیل کھیل رہی ہے ضلعی انتظامیہ اور جی ڈی اے گوادر کو اِن کو خو ش کرنے کاٹاسک دیا گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ماہی گیروں کو 2000 بوٹ انجن دینے کی بات چل رہی ہے۔ محکمہ فشریز، ڈپٹی کمشنر و دیگر منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کا شعبہ ضلع گوادر کی معیشت کا اہم منبع ہے اور ساحل پر آباد لاکھوں لوگ اس شعبہ سے منسلک ہیں لیکن غیرقانونی ٹرالرنگ کے آسیب نے ماہی گیروں سے ان کے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے، غیر قانونی ٹرالرنگ کو روکنے کے لئے صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں اور اس کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ غیرقانونی ٹرالرنگ کو روکنے کے لئے پائیدار اور دیرپا اقدامات کی ضرورت ہے زرخیز شکار گاہوں کو بچانے کے لئے گہرے سمندر میں مصنوعی کورل ریپ بچھانے کی ضرورت ہے، جس سے شکار گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کی ایماپر 26 دسمبر کو گوادر کے شہریوں پر جو پولیس گردی ہوئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں پر جو ظلم ڈھائے وہ کسی بھی طرح ناقابل قبول ہیں، نیشنل پارٹی نے بحیثیت قومی سیاسی اور جمہوری جماعت کے پابند سلال سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کوجیل سے رہائی دلانے کے لئے اپنے وکلاء پینل سے ہرممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کی اور کر بھی رہی ہے یہ کوئی احسان نہیں بلکہ سیاسی رواداری کو مقدم رکھتے ہوئے ایسا کیا ہے اور اس کو ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو ان کو تنہا چھوڑنا سیاسی بدنیتی ہوگی۔ نیشنل پارٹی 26دسمبر اور اس کے بعد نہتے سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں پر پو لیس گردی کی بھر پور مزمت کرتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام سیاسی کارکنوں کو رہا اور ان پر قائم تمام مقدمات ختم کئے جائیں۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ہوت عبدالغفور، ضلعی جنرل سیکرٹری محمد حیاتان، ڈپٹی سیکرٹری اکرم رمضان، مرکزی کمیٹی کی رکن میڈم طاہرہ خورشید، صوبائی ماہی گیر سیکرٹری آدم قادر بخش، سابقہ ضلعی صدر فیض نگوری، تحصیل صدر ناگمان عبدل اور دیگر بھی موجود تھے۔


