چار سال میں 42صحافی قتل ہوئے ، صرف ایک قاتل گرفتار ہو سکا ،سینٹ کو آگاہی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سال میں 42 صحافی قتل ہوئے ہیں،پنجاب میں پندرہ ، سندھ میں گیارہ کے پی کے تیرہ اور بلوچستان میں تین صحافی قتل ہوئے ہیں، صحافیوں کے قتل میں صرف ایک قاتل گرفتار ہوا ہے۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کی۔ سینیٹر مشاق نے کہا کہ حملوں میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور اگر ان تمام صحافیوں کے ملزم پکڑے جاتے تو ارشد شریف شہید نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہے، اس پر وزیر پارلیمانی امورمرتضیٰ جاوید عباسی کہا کہ صحافیوں کا شہید ہونا تشویشناک ہے، وزرات داخلہ اور اطلاعات صحافیوں کے حوالے سے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔انہوںنے کہاکہ میں بھی حیران ہوں کہ 50 فیصد صحافیوں کے قاتل نہیں پکڑے گئے،صحافی حق اور سچ کی تلاش میں اپنی جان گوا دیتا ہے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جو صحافی شہید ہوئے وہ کن کے خلاف سرگرم تھے جب معلوم ہوگا تو قاتل بھی پکڑے جائیں گے۔وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے بتایا کہ لوازمات مکمل ہونے کے بعد ایم ایل ون منصوبہ مکمل ہو گامنصوبے پر مجموعی 9.8 ارب لاگت آئیگی اور منصوبے کو مکمل ہونے کیلئے دس نو سال کا دورانیہ مقرر کیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمن کانجو نے ایوان کو بتایا کہ نادرا میں ملازمین اور افسران کو ترقیاں دی گئی ہیں۔نادرا میں ایک طریقہ کار طے ہے اْس کے تحت ترقیاں کی جاتی ہیں۔انکوں نے بتایا کہ افغانیوں کے پاکستان میں شناختی کارڈ بنے ہیں جاری شدہ شناختی کارڈ کی تصدیق کا عمل جاری ہے ۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں