ٹی وی پر میرے انٹرویو کو ایڈٹ کرکے غیر اخلاقی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی، شانیہ خان
کوئٹہ :وزیر اعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینٹر شانیہ خان نے ایک سوشل میڈیا پیج کے ایڈمن کی جانب سے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے، انٹرویو کے ایک حصہ کو تضحیک آمیز طور پر وائرل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قانونی، علاقائی اور قبائلی روایات کے منافی قراردیا ہے، کوآرڈینیٹر کی جانب سے جاری بیان میں اس امر پر تعجب کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری ٹی وی کے ایک پشتو پروگرام میں دیے گئے انٹرویو کو بدنیتی اور بددیانتی سے ایڈٹ کرکے انٹرویو کے ایک مخصوص حصہ مفہوم کی تبدیلی کے لئے استعمال کیا گیا ٹی وی اینکر کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوامی رابطوں کے لئے کوآرڈینیٹرز کا تقرر کیا ہے جو وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے تفویض کیے گئے امور کے لئے عوام سے کوآرڈینیشن کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ کی جانب سے عوامی مشکلات کے حل کے لئے دیے گئے عوامی امور کے اہداف کے لئے کام کرتے ہیں تاہم مذکورہ سوشل میڈیا پیج پر ایڈٹ کئے گئے الفاظ سے غیر اخلاقی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ عمل نہ صرف سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک قبائلی معاشرے میں انتہائی معیوب ہے، ایسا کرنے والے عناصر کو معاشرے اور عوام کی فلاح بہبود کے لیے کام کرنے والی ایسی تمام متحرک خواتین کا احترام کرنا چاہیے جو سخت گیر روایات کے باوجود بلوچستان کی غریب خواتین اور عوام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ شانیہ خان نے کہا کہ انٹرویو کو ایڈٹ کرکے مخصوص پیرائے میں ایک غیر اخلاقی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بیان میں مزید کہاگیاہے کہ مذکورہ پیجز کیخلاف سائبر کرائمز قوانین کے تحت کارروائی کے لیے ما ہرین قانون کی معاونت حاصل کی جارہی ہے۔


