لاپتہ افراد کیس ،کمیٹی کمیٹی چھوڑیں بتائیں یہ افراد زندہ ہیں یا نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں اور سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کمیٹی کا رٹ نہ لگائے ابھی تک ہوا کیا ہے؟ہمیں بتائیں کہ یہ لوگ زندہ ہیں یا قتل کئے گئے؟لاپتہ شخص کی بازیابی ریاست کی زمہ داری ہے اس ملک میں جب کچھ نہیں ہوتا تو کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں درخواست گزار وکلاءبیرسٹر عمر اعجاز گیلانی، کرنل انعام، ایمان زینب مزاری،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،وزارت دفاع اور عدالتی معاونین فیصل قریشی اور آمنہ جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر معاملے کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ہے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے لاپتہ افراد سے متعلق کو کمیٹی بنائی گئی اس کی ابھی تک 8 میٹنگز ہوئی ہیں کمیٹی نے اسلام آباد، بلوچستان سمیت مختلف جگہوں کے دورے کئے ہیں کمیٹی نے لاپتہ افراد کے رشہ داروں، صحافیوں اور کیسسز سے جوڑے لوگوں سے ملاقاتیں کیں عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت نے یہ اپیل کیوں فائل کی؟ گزشتہ حکومت کی اپیل کو آپ جاری کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ ایک لاپتہ شخص کی بازیابی ریاست کی زمہ داری ہیں عدالت نے جرمانہ عائد کیا اس کے علاو اس آرڈر میں کیا غلط ہے آپ بتائے اگر 2031 تک کرلیں گے تو وہی 2031 کا ہی تاریخ دیتے ہیں اس موقع پر عدالت نے عدالت کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کمیٹی کا رٹ نہ لگائے ابھی تک ہوا کیا ہے؟ہمیں بتائیں کہ یہ لوگ زندہ ہیں یا قتل کئے گئے؟ہم نے یہ نہیں کہنا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج کریں عدالت نے استفسار کیا کہ اگر آپ کو احساس ہے تو اپیل کیوں دائر کی؟آپ کو پیسوں کا غم ہے؟ آپ کہیں کہ جرمانہ ختم کریں تو ہم اپیل خارج کرتے ہیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اس حوالے سے کمیٹی کے چیئرمین سے ہدایات لینے ہونگے2018 سے یہ اپیلیں زیر سماعت ہیں تین سال گزر گئے مگر ہوا کچھ نہیں تین سالوں میں ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا، ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک کچھ نہیں ہواآپ کیسے چاہتے ہیں کہ ہم اپیلوں پر کوئی فیصلہ کرلیں لاپتہ افراد کی بازیابی ریاست کی زمہ داری ہےکیا کرے گی کمیٹی ؟ بند کمروں میں چائے کے کپ کے ساتھ کیا کرے گی اگر 2012 کا معاملہ ہے تو بتائے ناں اب تک اس میں کیا ہوا؟ یہاں کھڑے ہوکر بیان حلفی دیں کہ آٹھ ہفتے بعد لاپتہ افراد بازیاب ہونگے تو ہم وقت دیتے ہیں اس موقع پر وزارت دفاع کے احکام نے عدالت کو بتایا کہ ایک لاپتہ شخص کو بازیاب کرایا گیا جس پر عدالت نے کہا کہ کہیں وہ کیس تو نہیں جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ افغانستان گیا تھا یا آپ نے چھوڑا تھا اس موقع پر کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وزارت دفاع کے حکام جھوٹ بول رہے ہیں، ایک لاپتہ شخص آپ کے سامنے کھڑا ہےجو بازیاب شخص یہاں کھڑا ہے ان کے حوالے سے وزارت دفاع نے کہا ہمارے پاس نہیں جو کہ بعد میں وہاں سے بازیاب ہوا اس موقع پر عدالت نے کہا کہ پانچ سالوں میں کچھ نہیں ہوا، انسان نے خود بھی کچھ کرنا ہوتا ہے اس موقع پر عدالتی معاون فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ میں اپنا تفصیلی اور تحریری جواب عدالت کو جمع کر چکا ہوں بہت وقت گزر گیا ہے ان کیسسز کا فیصلہ ہونا چاہیے اس موقع پر عدالت نے غیر متعلقہ زبان استعمال کرنے کرنل انعام ایڈوکیٹ کو روک دیا لاپتہ شخص کے والد نے عدالت کو بتایا کہ میرے بیٹے کو یونیورسٹی سے واپسی پر اٹھایا گیا9 ستمبر 2022 کو اسی عدالت نے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر قانون کو طلب کیا تھا وزیر اعظم نے اسی عدالت کو لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دھانی کرائی تھی ہمیں اسی عدالت سے انصاف کی امید ہے، عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے میری فیملی کے کئی لوگ آرمی سے تعلق رکھتے ہیں، ہم دہشت گرد نہیں میں 72 سالا دل کا مریض شخص ہو اور اس عمر میں ہم اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہے ہیں عدالت نے فیملی سپورٹ کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے اسی پر عملدرآمد کیا جائے اس موقع پر کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی تک فیملی کو معاوضہ دینا ہی بہتر آپشن ہے اس موقع پر عدالت نے فریقین کے وکلائ کو 4 ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی 8 مارچ تک کے لئے سماعت ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں