کراچی میں حفیظ بلوچ اور اس کے اہلخانہ پر تشدد سے بلوچستان میں بے چینی کی نئی لہر پیدا ہوگئی، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) عبدالحفیظ بلوچ اور اس کے خاندان کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والا±واقعہ ریاستی اداروں کی ماورائے آئین کارروائیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ واقعے سے ثابت ہوا کہ ریاستی ادارے آئین و قانون اور عدالتوں کے فیصلوں سے مبرا ہیں۔ نیشنل پارٹی نے اپنے مرکزی بیان کے ذریعے حفیظ بلوچ اور اس کے خاندان کے ساتھ ریاستی اداروں کی جانب سے تشدد اور حفیظ بلوچ کی عدالت سے بریت کے باوجود دبارہ ماورائے آئین لاپتہ کرنے کے خاطر ان کے خاندان پر سینٹرل جیل کراچی کے سامنے تشدد فائرنگ اور مردو خواتین سمیت ان کے خاندان کو زخمی کرنے سے بلوچستان میں مایوسی اور بے چینی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ نیشنل پارٹی نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے گزارش کی ہے کہ واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور حفیظ بلوچ سمیت اس کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات سے لوگوں کا آئین، قانون، عدالت، پارلیمنٹ، جمہوریت سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے جو نیک شگون نہیں، ایسے واقعات سے سوسائٹی میں نفرت، خوف و ہراس، تشدد کو مزید تقویت حاصل ہوگی اس سے اجتناب لازمی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام اداروں کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے، آئین و قانون کو پاﺅں تلے کچلنا کسی بھی ادارے یا ریاست کے مفاد میں نہیں۔ پارٹی نے واقعے کو انسانیت سوز اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں