مکران میں ایرانی پیٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر، سوزوکی یونین کی ہڑتال، تدریسی عمل متاثر
مکران (نمائندہ خصوصی) مکران میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کے بلند تر سطح پر پہنچ گئیں، ٹرانسپورٹیشن، ماہیگیری، زراعت، کے شعبے بری طرح متاثر، عام عوام کی چیخیں نکل گئیں، تعلیمی ادارے بھی متاثر ہونے لگے، گاڑی مالکان کی ہڑتال سے طلباءاسکول نہ پہنچ سکے، پیڑول قیمتوں کیخلاف احتجاج، تدریسی عمل متاثر۔ کیچ کے مرکزی شہر تربت میں سوزوکی یونین نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کیخلاف احتجاجاً تعلیمی اداروں میں طلباءوطالبات اور استانیوں کی پک اینڈ ڈراپ معطل کردی۔ پیر کی صبح سوزوکی بولان یونین کے ارکان نے شہر کے مختلف سڑکوں پر کھڑے ہوکر تعلیمی اداروں میں طلباءوطالبات اور استانیوں کو لے جانے والی سوزوکی بولان گاڑیوں کو روک دیا، جس سے تعلیمی اداروں بالخصوص گرلز اسکولوں اور پرائیویٹ اسکولوں میں جانے والے طلباءوطالبات اور استانیوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا رہا اور گرلز اسکولوں اور پرائیویٹ اسکولوں میں حاضری متاثر رہی۔ سوزوکی یونین کے رہنماو¿ں نے بتایاکہ پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث یہ ہمارے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ سابقہ کرایوں پر طلباءوطالبات اور استانیوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دے سکیں اور کرایہ بڑھانے سے والدین پر اضافی بوجھ ڈالنا بھی مناسب نہیں اس لئے ہم نے احتجاج کا راستہ اپنایا ہے تاکہ سرکار مجبور ہوکر ایرانی پیٹرول کی قیمتیں کم کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تربت شہر میں ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے، ایران میں فی لٹر پیٹرول 10 سے 12 پاکستانی روپے ہے جو یہاں آکر 250 سے 270 روپے تک پہنچ جاتا ہے جو ظلم کی انتہاءہے اس ظلم نے ہمیں احتجاج پر مجبور کیا ہے، انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہمارا ساتھ دیں اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔


