رشیدہ بلوچ، ماحل بلوچ کا اغوا اور گرا ناز کا قتل بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، بی این پی

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کاایک اہم اجلاس پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں زیرصدارت مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ منعقدہوا۔ جس میں تسلسل سے بلوچستان کے قومی روایات کی اور تقدس حرمت خواتین کی خلاف ورزی کےخلاف 25فروری بروزہفتہ علامتی بھوک ہڑتال کے حوالے سے حکمت عملی و لائحہ عمل طے کیاگیا۔اجلاس میں مرکزی لیبرسیکرٹری موسی بلوچ ہیومن راٹس سیکرٹری ایم پی اے احمدنوازبلوچ خواتین سیکرٹری وایم این اے شکیلہ نویددہوار سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے ممبروکوئٹہ کے صدرغلام نبی مری ایم پی اے وسی ای سی ممبران ثنا بلوچ چیئرمین جاوید بلوچ ٹکری شفقت لانگو ،ثانیہ حسن کشانی ،ڈاکٹرآسمہ منظوربلوچ ،کوئٹہ کے جنرل سیکرٹری وپارٹی کے نامزدامیدوارضمنی حلقہ این اے265 میرجمال لانگو ،ملک محی الدین لہڑی ،طاہرشاہوانی ایڈوکیٹ ،ڈاکٹرعلی احمدقمبرانی ،نسیم جاویدہزارہ ،پرنس رزاق بلوچ میراسماعیل کردودیگرنے شرکت کی۔ اجلاس سے میں بلوچستان میں جاری اغوا جیسے سنگین نوعیت کے انسانی وغیر جمہوری عمل میں شدت کےساتھ اضافہ، چند روز قبل رحیم زہری اور ان کی اہلیہ رشیدہ بلوچ کا اغوا کے بعد بازیابی بلوچ قومی تاریخی روایات پر ریاستی ضرب کاری، بلوچ خاتون ماحل بلوچ کا اغوا اور جھوٹی ایف آئی آر پر سخت ردعمل و تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قومی تقدس و روایات کو پامال کرکے جھوٹے الزامات سے بلوچستان کے جمہوری وباہمی رواداری کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور تواتر سے ایسے گھناﺅنے واقعات کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے ترتیب دیا جارہا ہے، پہلے بلوچ خاتون رشیدہ بلوچ کا اغوا پھر ماحل بلوچ کا اغوا اور بارکھان میں گرا ناز مری و دو بیٹوں کے بزدلانہ قتل نے بلوچستان کے چھلنی عکس کو تاریخ کے سیاہ ترین باب جبر و تشدد میں ڈال دیا ہے، جو بلوچستان اور بلوچ قوم کے جذبات کےلئے اشتعال کا سبب ہے۔ اس ضمن میں بی این پی 25فروری بروزہفتہ پریس کلب کوئٹہ کے سامنے مرکزی کابینہ وممبران قومی وصوبائی اسمبلی ومرکزی عہدیدار ایک روزہ علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھ کواحتجاج ریکارڈ کرے گی۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کے انعقاد کےلے مختلف کمیٹیاں بنا کر ذمہ داریاں دی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں