چوکھی سے خانکی کیرتھر کینال تک پشتوں کو مضبوط کرنا ہوگا ورنہ گنداخہ دوبارہ ڈوب جائیگا، متحدہ لیبر فیڈریشن
گنداخہ (آن لائن) کیرتھر کینال کے پشتوں کو مضبوط نہ کیا گیا تو تحصیل گنداخہ میں سیلاب دوبارہ تباہی مچائے گا جس کے بعد 2022 کے سیلاب سے زیادہ حالات خراب ہوسکتے ہے متحدہ لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صوبائی صدر علی بخش جمالی کی صحافیوں گفتگو، علی بخش جمالی نے گنداخہ میں ایریگیشن یونین کو رہنماں کے ساتھ میٹنگ کی میٹنگ کے بعد مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ آنے والا مون سون انتہائی خطرناک ہوگا اس وقت کھیرتھر کینال کے پشتوں پر کام کیا جارہا ہے شگاف بند کئے جارہے ہیں جبکہ قبولہ اور باغ ہیڈ کا ریگولیٹر مکمل طور پر تباہ ہے اگر ان ریگولیٹر پر فلفور کام نہیں ہوا تو بڑا نقصان ہوسکتا ہے جس کے لئے میں نے اپنے تمام عملے کو سختی سے ہدایات دی ہیں کہ وہ اس صورتحال کے لئے تیار رہیں انہوں نے کہا کہ سیکرٹری ایریگیشن اور چیف انجینئر سے بھی میری میٹنگ ہوچکی ہے اس کے علاوہ ہم نے اپنے حکمرانوں کو بار بار اس گھمبیر صورتحال کی طرف نوٹس دلایا ہے انہوں نے کہا کہ خانکی کھیر تھر کینال کے مقام پر ہمیشہ سے ہم بلوچستان کے زمینداروں کے لئے سندھ ایریگیشن مسائل پیدا کرتا ہے پانی اگر کم ہوتا ہے تو بلوچستان کے حصے کا پانی چوری کرتے ہیں اور جب سندھ کے پاس پانی زیادہ ہوتا ہے ہمارے ڈرین کے زریعے ہمیں ڈبونے کی کوشش کرتے ہیں حالیہ سیلاب کے دوران سندھ گورنمنٹ نے کھیرتھر کینال کو کٹ لگاکر ہمیں ڈبونے کی کوشش کی اور زبردستی پانی چھوڑا گیا سندھ گورنمنٹ اپنے حصے کا کام کرے کھیر تھر کینال کی بھل صفائی کرے انہوں نے کہا کہ پندرہ دن کے بعد کھیرتھر کینال کا پانی بند ہوگا تو اس حوالے سے علاقے کی معزز شخصیات اور ہم مل کر ایک پلان بنائیں جب مصیبت آتی ہے تو سارا ملبہ ایریگیشن محکمہ بلوچستان پر ڈالا جاتا ہے ہمیں اس گھبیر صورتحال سے نکلنے کے لئے قبل از وقت کام کرنا ہوگا 25 فوٹ سیلابی پانی مولھہ، ڈیرہ بگٹی، کچھی کینال ودیگر علاقوں سے آتا ہے اگر یہی صورتحال رہی کام نہ ہوا تو پھر ہمارے تحصیل گنداخہ کا اللہ ہی حافظ ہے سارا اسٹرکچر تباہ ہے چوکھی سے لیکر خانکی کیرتھر کینال تک پشتوں کو مضبوط کرنا ہوگا پھتروں کی پچنگ کرنا انتہائی ضروری ہے کھیرتھر کینال کے لئے تھوڑا فنڈ دوران سیلاب آیا تھا جس پر ہم کام کرتے آرہے ہیں سیرمایینر ، شاہن مائنر قبولہ ، باغٹیل ، چوکی مائنر سمیت گنداخہ شاخ کے 40 کے قریب شگاف بند کئے مگر ہمیں مزید کام کرنا ہے ہمارے سارے ملازمین کے ریسٹ ہاس ختم ہوچکے ہیں انگریزوں کے دور کے بنائے گئے بلڈنگ جو ابھی مکمل خستہ حال ہوچکی ہیں خانکی اور قبولہ ریگولیٹر کا بننا بجی انتہائی ضروری ہے اگر نہیں کیا گیا تو حالات سیلاب کے وقت حالات انتہائی خراب ہونگے انہوں نے کہا کہ تحصیل گنداخہ میں ابھی بھی پچاس فیصد علاقے میں سیلابی پانی کھڑا ہوا ہے علاقہ جزیرہ بنا ہوا ہے ہم اپنے ایم پی اے میر جان محمد خان جمالی سے اپیل کرتے ہیں کہ کھیرتھر کینال کے پشتوں ، پچنگ اور ریگولیٹرز کی تعمیر کے لئے زیادہ فنڈز اس آخری پی ایس ڈی پی میں مختص کریں تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہوں اور علاقے کو مزید سیلابی تباہی سے بچایا جائے۔


