گوادر کے گنجان علاقوں میں جنگلی سوروں کی موجودگی، پسنی بازار آوارہ جانوروں کی آماجگاہ بن گئی
گوادر :گوادرکے شہری گنجان آبادی علاقوں میں آوارہ جنگلی سوروں کی پائے جانے کا انکشاف، گوادر کے جناح ایونیو و بخشی کالونی آبادیوں میں رات گئے جنگلی سور اوارہ گھومتے دیکھے گئے، ویڈیو وائرل ہونے پر محکمہ وائلڈلائف گوادر کے آفسر ان متعلقہ مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔زرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ گوادر اور ڈسٹرکٹ کیچ کے دونوں اضلاع خصوصا دیہی علاقوں دشت کور وغیرہ میں جنگلی سور سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں جو آبادیوں میں بھی گھومتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔گوادر کے جناح ایونیو و بخشی کالونی آبادیوں میں رات گئے جنگلی سور اوارہ گھومتے دیکھے گئے ، مزکورہ آوارہ جنگلی سوروں کی شہری آبادی میں پائے جانے کی ویڈیوں وائرل ہونے کے بعد دن کی روشنی میں علاقہ مکینوں نے آوارہ سوروں کی علاقے میں اپنی مدد آپ تلاش شروع کردی، زرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ گوادر اور ڈسٹرکٹ کیچ کے دونوں اضلاع خصوصا دیہی علاقوں دشت کور وغیرہ میں آج کل جنگلی سور سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں جو آبادیوں میں بھی گھومتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اگر سور کا ایک جوڑا بھی ایک جگہ پر موجود ہو تو اس کا نسل تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ ایک سور اوسطا آٹھ بچے بہ یک وقت جنم دیتا ہے، گوادر شہر میں جنگلی جانوروں کی موجودگی کی ویڈیو وائرل ہونے پر محکمہ وائیلڈلائیف گوادر کے آفسران متعلقہ مقام کی جانب روانہ ہوگئے،ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات یار محمد بلوچ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شہری ایسا کوئی بھی جنگلی جانور کو اگر شہری حدود یا آبادیوں کے قریب دیکھ لیں تو اس جانور کو مارنے یا نقصان پہنچانے کے بجائے محکمہ جنگلات کے عملے کو اطلاع کردیں۔ علاوہ ازیں پسنی مین بازار آوارہ جانوروں کی آماہ جگاہ گیا، گاہکوں سمیت دکانداروں کو روزانہ کی بنیاد پر ان سے ہزاروں روپے کا نقصان، گائے بھیڑ،بکریاں موقع پاکر دکانوں پر سجائے گئے سامانوں اور گاہکوں کے ہاتھوں میں اشیائے خوردونوش پر جھپٹ پڑتے ہیں اور انہیں روزانہ ہزاروں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ بازار کی گندگی میں اضافے کا بھی باعث ہیں، بلدیہ تدارک میں مکمل ناکام۔ تفصیلات کے مطابق پسنی مین بازار آوارہ جانوروں کی آزادانہ نقل و حرکت سے دکان داروں سمیت گاہکوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، آوارہ جانور موقع پاکر گاہکوں کے ہاتھوں میں اشیائے خوردونوش کی تھیلوں اور دکانوں میں سجائے گئے سبزیوں اور اشیا پر جھپٹ پڑتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر انھیں ہزاروں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ دوسری طرف مین بازار میں آوارہ کتوں کی بھی بہتات ہے لیکن اس متعلق محکمہ بلدیہ کی کسی قسم کی کاروائی نظر نہیں آتی واضح رہے کہ مذکورہ آوارہ جانور لوگوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بازار کی گندگی میں بھی اضافے کا باعث ہیں اور آوارہ کتوں سے کسی بھی وقت بازار میں سگ گزیدگی کا واقع پیش آسکتا ہے عوامی حلقوں نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ان کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جائیں۔


